دعوؤں کے شور میں سچ کی صدا گُم ہوگئی راہل گاندھی کا نریندر مودی کو کھلا چیلنج تین کروڑ در انداز کہاں ہیں؟

دعوؤں کے شور میں سچ کی صدا گُم ہوگئی
راہل گاندھی کا نریندر مودی کو کھلا چیلنج
تین کروڑ در انداز کہاں ہیں؟
رام لیلا میدان کے احتجاجی جلسے پر دعوے
تحریر: سید سرفراز احمد
ملک کی سیاست میں ان دنوں ایک بار پھر لفظی جنگ شدت اختیار کرچکی ہے۔ کانگریس کے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو کھلے عام مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وزیراعظم ان کے سامنے بیٹھ کر بحث کریں تو وہ محض پانچ منٹ میں یہ ثابت کردیں گے کہ ملک دشمن کون ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ میں کون کام کررہا ہے۔دودھ کا دودھ پانی کا پانی الگ ہوجاۓ گا۔ دوسری طرف مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حیدرآباد میں بی جے پی کی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی کو ایس آئی آر، ای وی ایم اور مبینہ دراندازوں کے مسئلے پر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں بحث کا چیلنج دیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر دونوں جماعتوں کے درمیان یہ سیاسی محاذ آرائی محض الزامات کی جنگ ہے یا اس کے پیچھے ایسے اہم قومی مسائل ہیں جن کے جواب عوام کو ملنے چاہئیں؟
4/نومبر 2026 کو پنجاب کے سنگرور میں کانگریس کی انصاف ریالی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیراعظم مودی کو براہ راست مباحثے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ مودی اپنی پسند کا منصف مقرر کرسکتے ہیں، جگہ بھی خود منتخب کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت یا صنعت کار گوتم اڈانی کو بھی منصف بنایا جاسکتا ہے۔ راہل کا دعویٰ تھا کہ وہ پانچ منٹ میں وزیراعظم کو ملک دشمن ثابت کردیں گے۔
راہل گاندھی کے اس الزام کی بنیاد امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی تعلقات، مبینہ امریکی دباؤ، کسانوں اور چھوٹی صنعتوں کے مفادات اور ہندوستان پاکستان کشیدگی کے دوران ٹرمپ کے بار بار جنگ رکوانے کے دعوے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی کے پاس ایسے کونسے ثبوت ہیں جس سے وہ صرف پانچ منٹ میں مودی کو ملک دشمن ثابت کرسکتے ہیں؟ ان کا کھلے عام چیلنج دینا اور مباحثے کی دعوت دینا، کیا یہ صرف ایک دعویٰ ہے یا پھر ان کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں؟ جہاں تک تجزیہ نگاروں نے اس بیان پر جو تجزیہ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا حزب اختلاف قائد جب کھلے عام چیلنج کر رہا ہے تو کہیں نہ کہیں ان کی باتوں میں سچائی ہوگی اور ٹھوس دلائل ہوں گے تب ہی وہ پانچ منٹ میں ملک دشمن ثابت کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پہلے حیدرآباد میں ریالی سے خطاب کیا۔ پھر ہریانہ میں راہل گاندھی کے چیلنج کو قبول تو کیا لیکن مودی اور خود کو اس مباحثے الگ کرلیتے ہوۓ بی جے پی ہریانہ کے نوجوانوں کے مورچہ لیڈر سے پہلے مباحثہ کرنے کا راہل گاندھی کو چیلنج کیا۔ راہل گاندھی کا چیلنج نریندر مودی سے ہے۔ اب مسٹر امیت شاہ کو یہ بتانا ہوگا کہ کیا وزیر اعظم اس مباحثے کے لیئے اہل نہیں ہے؟ پھر کہا کہ اگر بحث کرنا چاہتے ہوتو کھل کر کہیئے اس کے لیئے ہم خصوصی پارلیمنٹ بھی بلانے کے لیئے تیار ہیں۔ یہاں ہمارا سوال امیت شاہ سے ہے کہ جب دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے لیئے دہلی میں طلبہ احتجاج کر رہے تھے اس وقت احتجاجی طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی تھی؟ اس وقت امیت شاہ پارلیمنٹ میں آنے کو تیار نہیں تھے۔ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن پارٹیاں امیت شاہ پر پارلیمنٹ میں آنے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ اور جواب دہی مانگ رہے تھے۔ لیکن امیت شاہ کسی گم نام وزیر داخلہ کی طرح پوری طرح سے غائب تھے۔ تو کیا اب خصوصی پارلیمنٹ بلا کر راہل گاندھی کا مائک بند کردیا جاۓ گا ؟ یا پھر دیش کی عوام کے سامنے اپوزیشن کی آواز کو دبا کر شور شرابا کرتے ہوۓ اپوزیشن پر الزامات لگاکر خود کو عوام کے سامنے دیانت دار کے طور پر پیش کیا جاۓ گا ؟
اس پورے تنازعے کا سب سے اہم اور تشویش ناک پہلو ایس آئی آر (Special Intensive Revision) یعنی ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی ہے۔ اسی کو لے کر پورے ملک میں کہرام مچا ہوا ہے۔ اور حکمران جماعت چیف الیکشن کمیشنر کا دفاع کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ 2/ نومبر کو حیدرآباد میں امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران تین کروڑ ایسے ووٹ سامنے آئے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں اور وہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے ووٹ ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 6.15 کروڑ ووٹر دوسری جگہ منتقل ہوچکے ہیں، تین کروڑ فوت ہوچکے ہیں، ایک کروڑ نام دہرائے گئے ہیں اور باقی تین کروڑ مبینہ درانداز ہیں۔ لیکن اس دعوے کی بنیاد پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر تین کروڑ بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کی ہے؟ کیا ان کے نام، شہریت اور رہائشی تفصیلات کی کوئی سرکاری فہرست موجود ہے؟ چور کی داڑھی میں تنکا نہیں ہے تو یہی بات چیف الیکشن کمیشنر عوام کے سامنے آکر سرکاری اعداد و شمار کیوں نہیں بتادیتے؟ کیا وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں کوئی مستند رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی ہے؟ ایسا تو ابھی تک کچھ بھی نہیں پایا گیا۔ پھر امیت شاہ کس بناء پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں یا پھر عوام کو گم راہ کر رہے ہیں؟
29 /اکتوبر 2026 کو ہندستان ٹائمز کی صحافی ہمانشی دہیا کی رپورٹ نے اس معاملے میں اہم معلومات پیش کیں۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر مکمل ہونے یا مسودہ ووٹر لسٹ جاری ہونے والی چھ ریاستوں نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کی تعداد بتائی۔ ان چھ ریاستوں میں تقریباً 9.86 کروڑ ووٹروں کے عمل کے دوران صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی کی گئی۔ جس میں سے اکثریت نیپالی ہندوؤں کی ہے۔ اس کے باوجود یہ رپورٹ امیت شاہ کے تین کروڑ دراندازوں کے دعوے پر سنجیدہ سوال ضرور کھڑے کرتی ہے۔
اگر حکومت کے پاس تین کروڑ غیر ملکی شہریوں کے ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے شواہد موجود ہیں تو انہیں پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟
بی جے پی ایس آئی آر کی حمایت میں ریالیاں نکال رہی ہے اور اسے انتخابی فہرستوں کی صفائی اور غیر قانونی تارکین وطن کے اخراج کا عمل قرار دے رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ایس آئی آر کی حمایت میں ترنگا ہاتھ میں لے کر ریالیاں نکال رہی ہے۔ تاکہ گُم ہورہی عوامی حمایت کو باقی رکھا جاسکے۔ لیکن بھارت کی عوام ہو یا اپوزیشن جماعتیں وہ ایس آئی آر کی غیر شفافیت پر سوال کھڑا کر رہی ہیں۔ جس کا جواب الکیشن کمیشن کو دینا ہے۔ لیکن بی جے پی ایس آئی آر کی حمایت کرنے اور عوام کو اپنے اعتماد میں لینے پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ جب کہ بھاجپا کا یہ کام ہرگز بھی نہیں ہے۔ تو پھر سوچیئے کہ بھاجپا اس کام پر کیوں لگی ہوئی ہے؟
اصولی طور پر انتخابی فہرستوں سے فرضی، دہرے اور غیر مستحق ناموں کا اخراج ضروری ہے۔ کسی بھی جمہوریت میں ووٹ کا حق صرف اہل شہریوں کو حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس عمل میں حقیقی ہندوستانی شہریوں کے ووٹ کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا؟ غریب، مزدور، نقل مکانی کرنے والے افراد اور دستاویزات کی کمی کا سامنا کرنے والے شہریوں کے ووٹ حذف ہوجائیں تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ ایس آئی آر کا مقصد اگر واقعی انتخابی نظام کو شفاف بنانا ہے تو اس کے طریقہ کار میں شفافیت، اپیل کا مؤثر نظام اور ہر حذف شدہ نام کے پیچھے واضح وجہ ہونی چاہیے۔ محض دراندازوں کا سیاسی بیانیہ بناکر کروڑوں شہریوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا جمہوری تقاضوں کے مطابق ہرگز بھی نہیں ہے۔
نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو ایس آئی آر (SIR) کی مخالفت میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس جلسے میں دس لاکھ افراد شریک ہوں گے۔ دوسری جانب بھاجپا نے اسے سیاسی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے طنز کا نشانہ بنایا۔ بھاجپا کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ میدان میں 28 ہزار کرسیاں بچھائی گئی تھیں، جن میں سے 40 فیصد کرسیاں خالی رہیں۔ وہیں سمبت پاترا نے اسے فلاپ شو سے تشبیہ دی۔ سیاست میں دعوؤں اور الزامات کی بوچھار ہوتی رہتی ہے، لیکن عوام کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ ان دعوؤں میں کتنی سچائی ہے اور کتنی سیاست۔ ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر عوامی سطح پر جو اعتراضات اٹھ رہے ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ملک کے مختلف حصوں میں عوام اور نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زی، کی جانب سے اس کے خلاف احتجاج بھی اسی بے چینی کا اظہار ہے۔ اگر رام لیلا میدان میں چار پانچ ہزار افراد بھی شریک ہوئے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایس آئی آر کے خلاف عوامی سطح پر تشویش موجود ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا جلسہ یا احتجاج نہیں تھا، بلکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر جمہوری اور انتخابی شفافیت کے سوال کو اٹھایا تھا۔ دوسری جانب انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ نے ایس آئی آر کے عمل کی شفافیت پر نئے سوالات کھڑے کیے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ حقیقی ووٹروں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس احتجاجی جلسۂ عام میں چیف الیکشن کمشنر سے استعفے اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ دراصل ملک کی جمہوریت اور انتخابی نظام کی شفافیت کو بچانے کی لڑائی ہے، جس میں اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر عوامی سطح پر آواز اٹھا رہی ہیں۔ اگر میڈیا رپورٹس کے ذریعے ایس آئی آر کے عمل کی غیر شفافیت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں تو حکمران جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب دے اور شکوک و شبہات کو دور کرے۔ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایس آئی آر کے پورے عمل کو شفاف بنایا جائے، بصورت دیگر اس پر نظرثانی کی جائے۔ لیکن موجودہ حکومت کا طرزِ عمل یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کو سیاسی تحفظ فراہم کرکے اپنے مفادات کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔
بھاجپا نے قانون کے ذریعے پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر کو ایک مخصوص قانونی تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ دوسری جانب ایس آئی آر کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ملک کے وزیر داخلہ تین کروڑ دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کے دعوے کو سامنے لا رہے ہیں۔ لیکن یہ دعویٰ محض بیان بازی سے آگے بڑھ کر ٹھوس شواہد کا متقاضی ہے۔ اگر امیت شاہ کے پاس اس دعوے کے حق میں سرکاری اعداد و شمار اور مستند شواہد موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ جمہوریت کے محافظ کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جمہوریت محض دعوؤں اور الزامات سے نہیں، بلکہ شواہد، شفافیت اور عوامی جواب دہی سے چلتی ہے۔



