جرائم و حادثات

بنگلورو میں “مسلمان، پاکستانی، دہشت گرد” ریمارکس پر ہنگامہ — مقامی مسلم نوجوانوں کے ردعمل کے بعد ریٹائرڈ فوجی اور اس کی بیوی نے معافی مانگ لی

کرناتک کے دارالحکومت بنگلورو کے علاقے ابیگیرے میں ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون اور اس کے شوہر—جو مبینہ طور پر بھارتی فوج کے سابق افسر بتائے جاتے ہیں—پر ایک مسلم نوجوان کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی سطح پر کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو، جو مسلم نوجوان کے ساتھیوں کی جانب سے بنائی گئی، سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق، مذکورہ جوڑے نے مبینہ طور پر نوجوان سے کہا، “تم مسلمان ہو، تم پاکستانی ہو، تم دہشت گرد ہو”، جس پر وہ شدید برہم ہوگیا۔ بعد ازاں وہ وہاں سے چلا گیا اور کچھ دیگر افراد کے ساتھ واپس آکر جوڑے کا سامنا کیا۔

 

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جوڑا اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے پر کھڑا ہے، جبکہ مسلم نوجوان تین سے چار افراد کے ساتھ دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر ریٹائرڈ فوجی افسر سے بحث کر رہے ہیں۔ دونوں جانب سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور نوجوان کی جانب سے ان ریمارکس پر سخت اعتراض کیا جاتا ہے۔

 

سفید قمیض میں ملبوس ایک شخص، جو بظاہر گروپ کی قیادت کر رہا تھا، نے سخت لہجے میں ریٹائرڈ افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “کیا یہ تمہارے باپ کا ملک ہے؟ بتاؤ انکل، کیا یہ تمہارے باپ کا ملک ہے؟ نہیں، یہ سب کا ملک ہے۔ پھر تمہاری بیوی کیسے کسی کو مسلمان کہہ کر دہشت گرد قرار دے سکتی ہے؟”

 

اسی دوران ایک اور شخص نے مداخلت کرتے ہوئے کہا، “یہ تمہارا نارتھ نہیں ہے، یہ کرناٹک ہے۔”سفید قمیض والے شخص نے افسر کے پیشے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا:“تم دفاعی شعبے میں کام کر چکے ہو، بھارتی فوج میں رہے ہو، تمہارے اندر حب الوطنی زیادہ ہونی چاہیے۔ پھر تمہاری بیوی کسی کو یہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ تم مسلمان ہو یا دہشت گرد ہو؟”

 

انہوں نے مزید کہا کہ “یہاں سب سیکولر سوچ رکھتے ہیں۔ اپنی گندی سوچ سے یہاں ماحول خراب مت کرو۔ یہاں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ایک ہیں۔ تم اور تم جیسے لوگ یہاں آکر مذہب، ذات اور برادری کے نام پر تقسیم نہ پھیلاؤ۔”

 

ریٹائرڈ افسر کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا گیا که “مذہب کے بارے میں بات کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر بات کرو—یہ پہلی اور آخری وارننگ ہے۔ ہر بات پر معافی مانگو۔ اس کے بعد اگر کچھ ہوا تو ہم تمہارے اپارٹمنٹ آکر تمہیں سڑک پر گھسیٹ کر بے عزت کریں گے۔”

 

بعد ازاں، صورتحال اس وقت قابو میں آئی جب جوڑے نے اپنے ریمارکس پر معذرت کرلی، جس کے بعد کشیدگی میں کمی واقع ہوئی، ورنہ معاملہ مزید بگڑ سکتا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button