عمران خان کو بڑی راحت، سپریم کورٹ کا جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم؛ بیٹوں کو بھی ملاقات کی اجازت

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو بڑی راحت مل گئی۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے خرابیٔ صحت کے باعث انہیں جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے منگل کو یہ حکم جاری کیا۔
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے اہل خانہ اور قریبی لوگوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی تھی، جبکہ ان کی صحت بگڑنے کی اطلاعات پر خاندان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے انہیں طبی علاج فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ سماعت کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کو فوری علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور 48 گھنٹوں کے اندر علاج شروع کیا جائے۔ انہیں 16 ستمبر تک اسپتال میں رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت نے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم سے عمران خان کا معائنہ کرانے اور رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔ ٹیم میں ان کے ذاتی ڈاکٹر کے علاوہ ان کی بہن ڈاکٹر علیمہ خان کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے عمران خان کے بیٹوں سمیت اہل خانہ کو اسپتال میں ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی حکم دیا۔
پاکستانی حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی مخالفت کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے حکومتی اعتراض مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے حق میں فیصلہ سنایا۔
پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار علی بخاری نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عمران خان کی صحت اور بینائی مزید خراب ہونے سے بچانے میں مدد ملے گی۔ عمران خان کے بیٹے اس وقت لندن میں ہیں اور انہیں بھی اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔



