تلنگانہ ایس آئی آر میں فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال پر ایف آئی آر درج کرنے شبیر علی کا مطالبہ – چہف منسٹر ریونت ریڈی کو مکتوب

حیدرآباد، 4 اکتوبر: تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر اے۔ ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران حقیقی ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لئے فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سمیت سخت کارروائی کی جائے۔
چیف منسٹر کے نام تحریر کردہ مکتوب میں شبیر علی نے فارم 7 کی درخواستیں بڑی تعداد میں، بعض مقامات پر پہلے سے پرنٹ شدہ فارم کے ذریعے داخل کئے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان درخواستوں کے ذریعہ اہل ووٹروں کے نام موت، رہائش کی منتقلی یا دوہرے اندراج جیسے اسباب بتاتے ہوئے حذف کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی ووٹروں میں خاص طور پر یہ خدشات پائے جارہے ہیں کہ ان کی اطلاع کے بغیر ان کے ناموں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
شبیر علی نے ٹی پی سی سی کی جانب سے کی گئی ایک شکایت کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا کہ مشیرآباد کے پولنگ بوتھ نمبر 210 میں تقریباً 30 فارم 7 درخواستیں مبینہ طور پر بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ ایس۔ وی۔ بال چندر عرف بالو کے نام سے داخل کی گئیں۔ ان درخواستوں میں کانگریس کے بوتھ لیول ایجنٹ محمد بابا شرف الدین، ان کے خاندان کے افراد اور چکڑپلی کے ایک اور خاندان کے ووٹر نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں موت، رہائش منتقل کرنے یا دوہرے اندراج جیسے اسباب بتائے گئے، حالانکہ متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی انہی پتوں پر رہائش پذیر ہیں اور ہر فرد کے پاس صرف ایک ووٹر شناختی کارڈ ہے۔ مکتوب کے مطابق ووٹروں کی تفصیلات پہلے سے پرنٹ تھیں جبکہ درخواست گزار کا نام ہاتھ سے لکھا گیا تھا۔ مبینہ طور پر بی جے پی ایجنٹ نے شرف الدین سے کہا کہ یہ فارم پارٹی دفتر سے آئے ہیں۔
بعد میں کی گئی جانچ میں معلوم ہوا کہ مذکورہ خاندانوں کے نام صرف اسی حلقے میں درج تھے، جس کے بعد ان کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھے گئے۔
محمد علی شبیر نے بہادرپورہ کے علی آباد کے ایک پولنگ اسٹیشن سے متعلق ایک اور فارم 7 کا بھی حوالہ دیا۔ مبینہ طور پر اس فارم پر ایک مسلم ووٹر کی تفصیلات پہلے سے پرنٹ تھیں، جبکہ اعتراض کنندہ کا کالم خالی چھوڑا گیا تھا۔
شبیر علی نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق تلنگانہ بھر میں فارم 7 کی 28,753 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں تقریباً 5,000 درخواستیں حیدرآباد سے ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بڑی تعداد میں داخل کی گئی درخواستوں کی جانچ کی جائے گی، انہیں وجوہات پر مبنی تحریری احکامات کے ذریعہ نمٹایا جائے گا اور صرف فارم 7 داخل کرنے سے کسی ووٹر کا نام خود بخود حذف نہیں کیا جائے گا۔
شبیر علی نے اس یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جھوٹے اعلانات ثابت ہوں وہاں اس کے ساتھ فوجداری کارروائی بھی ہونی چاہئے۔
انہوں نے کرناٹک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میسور کے نرسمہاراجہ، بیدر کے بھالکی اور بیلگاوی کے مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں متاثرہ ووٹروں کی شکایات کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بھی ان شکایات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
شبیر علی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اسی طرح سخت موقف اختیار کرے، تاکہ مبینہ طور پر فرضی فارم 7 درخواستوں کو محض معمول کے انتخابی اعتراضات سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ ڈائریکٹر جنرل پولیس کی جانب سے مشیرآباد کے بوتھ نمبر 210 کے متاثرہ ووٹروں اور ایسے تمام ووٹروں کی شکایات کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرانے میں سہولت فراہم کی جائے، جنہوں نے پہلے سے پرنٹ شدہ فارم 7 یا ایسا فارم پیش کیا ہو جس میں اعتراض کنندہ کی تفصیلات درج نہ ہوں۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ دعووں اور اعتراضات کی مدت 7 اکتوبر کو ختم ہونے سے پہلے تمام اصل درخواستیں محفوظ رکھی جائیں، جن میں دستخط، تحریر، تاریخیں اور معاون دستاویزات شامل ہوں۔ ان کے مطابق بوتھ لیول آفیسر کا بیان بھی باضابطہ طور پر ریکارڈ پر لایا جانا چاہئے۔
محمد علی شبیر نے مزید درخواست کی کہ چیف الیکٹورل آفیسر کو ہدایت دی جائے کہ جہاں قابل اطلاق ہو، مبینہ طور پر جھوٹے اعلانات پر مشتمل معاملات کو عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت کارروائی کے لئے بھیجا جائے۔
شبیر علی نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ایسے فارم 7 پر سماعت نہ کی جائے جن میں ووٹروں کی تفصیلات پہلے سے پرنٹ ہوں یا اعتراض کنندہ کا نام درج نہ ہو، جب تک حکام پرنٹر اور سپلائر کی شناخت نہ کرلیں اور درخواست میں درج شخص کی رضامندی کی تصدیق نہ ہوجائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دعووں اور اعتراضات کی مدت ختم ہونے سے پہلے بوتھ وار فارم 7 درخواستوں کی فہرست شائع کی جائے، جس میں ہر اعتراض کنندہ کا نام، اس کی جانب سے داخل کئے گئے فارموں کی تعداد اور ووٹر کا نام حذف کرنے کے لئے بتائی گئی وجوہات شامل ہوں۔
شبیر علی نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ’’کانگریس حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ کسی بھی حقیقی ووٹر کا نام سیاسی اعتراض کی بنیاد پر حذف نہیں کیا جائے گا۔ ان معاملات میں سخت کارروائی اس یقین دہانی کو عملی قوت فراہم کرے گی۔‘‘



