تلنگانہ

حیدرآباد میں 43 لاکھ ووٹ منسوخ! مزید 10 لاکھ ووٹرس کے سرپر لٹکتی تلوار

حیدرآباد: دارالحکومت حیدرآباد میں ہی 43 لاکھ ووٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڈچل-ملکاجگیری اضلاع کے حکام کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی مسودہ ووٹر فہرست کے مطابق تینوں اضلاع میں اوسطاً 37.3 فیصد ووٹ منسوخ کیے گئے ہیں۔

 

ریاست بھر میں ان تینوں اضلاع کی صورتحال سب سے خراب رہی ہے لیکن ووٹوں کی منسوخی کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا مزید 38 لاکھ ووٹرز نوٹس کے زمرے میں ہیں۔ اگر یہ افراد انتخابی حکام کے سامنے مطلوبہ درست دستاویزات پیش نہیں کرتے تو مزید ووٹ منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

 

حکام نے بتایا کہ مسودہ ووٹر فہرست کی نقول تمام میونسپل دفاتر، وارڈ دفاتر اور تحصیلدار دفاتر کے نوٹس بورڈز پر آویزاں کی جائیں گی۔ سیاسی جماعتوں کو بھی ووٹر فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔تینوں اضلاع میں 10 جون تک تقریباً 1.14 کروڑ ووٹرز تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 71 لاکھ رہ گئی ہے ان میں سے 54.72 فیصد یعنی 38,93,617 ووٹرز کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ آج سے 16 ستمبر تک بی ایل اوز ان ووٹرز کو نوٹس فراہم کریں گے۔

 

15 اکتوبر سے ان ووٹرس کی جانب سے نوٹس کے جواب میں پیش کیے جانے والے شناختی دستاویزات کی جانچ شروع ہوگی۔ اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ ووٹ کو برقرار رکھا جائے یا منسوخ کیا جائے۔ 19 تاریخ کو حتمی ووٹر فہرست جاری کی جائے گی۔اس پورے عمل کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ پہلے ہی منسوخ کیے گئے 43 لاکھ ووٹوں کے علاوہ مزید تقریباً 10 لاکھ ووٹ بھی منسوخ ہو سکتے ہیں۔

 

ایل بی نگر اسمبلی حلقے میں صرف 55.56 فیصد ووٹوں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہوئی ہے۔ ان میں بھی تقریباً نصف ووٹر ایسے ہیں جن کی میپنگ نہیں ہوئی اس کا مطلب یہ ہے کہ 2002 کی ووٹر فہرست میں ان ووٹرس نے اپنے والد یا والدہ کی تفصیلات پیش نہیں کی تھیں۔ اسی وجہ سے ان ووٹرز کو نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

 

قطب اللہ پور اور کوکٹ پلی اسمبلی حلقوں میں بھی 60 فیصد سے زیادہ ووٹرس کی میپنگ نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button