عمرہ پیکیج میں اب کھانا بھی لازمی – سعودی عرب کا ہندوستان ، پاکستان سمیت 4 ممالک کے زائرین کے لئے نیا نظام

جدہ – ( عرفان محمد) سعودی عرب نے ہندوستان مصر، ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے عمرہ زائرین کے لئے عمرہ پیکیج میں کھانے کی سہولت شامل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ مدینہ چیمبر آف کامرس کی حج و عمرہ کمیٹی کے سربراہ غازی قطب کے مطابق یہ نیا نظام 14 اگست 2026 سے نافذ ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت حج و عمرہ کی جانب سے ابھی تک ان ممالک کی مکمل فہرست، کھانوں کی کم از کم تعداد، معیار یا مقررہ قیمت کے بارے میں تفصیلی عوامی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس نظام پر عمل درآمد ٹراویل کمپنیوں اور کیٹرنگ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان معاہدوں کے تحت ہوگا۔
نئے نظام کے تحت زائرین کے لئے کھانا سعودی عرب پہنچنے کے بعد الگ سے خریدنے کی اختیاری سہولت کے بجائے عمرہ پیکیج کا لازمی حصہ ہوگا۔ کیٹرنگ خدمات کی نگرانی اور درجہ بندی بھی کی جائے گی۔
غازی قطب نے ’’مدینہ کیٹرنگ اسٹینڈرڈ‘‘ متعارف کرانے کی تجویز بھی دی ہے، جس کے تحت تین سطحوں کی کیٹرنگ سروس، مقررہ کھانے کے معیار اور مختلف ممالک کے زائرین کی غذائی ضروریات کے مطابق مینو تیار کئے جائیں گے، تاکہ کھانے کے ضیاع اور شکایات میں کمی لائی جاسکے۔
انہوں نے ہر زائر کے پرمٹ سے کھانے کی فراہمی کو ڈیجیٹل طور پر منسلک کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ فرضی کیٹرنگ دعووں کو روکا جاسکے۔ اضافی کھانے کے انتظام کے لئے بھی ایک الگ نظام بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
غازی قطب کے مطابق سعودی عرب کی کیٹرنگ مارکیٹ 2030 تک تقریباً 70 فیصد بڑھ کر 47.8 ارب سعودی ریال تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ موجودہ مارکیٹ کا حجم 28.2 ارب ریال ہے۔ اس شعبہ میں تقریباً 23 ہزار لائسنس یافتہ کمپنیاں اور کچن کام کررہے ہیں۔
وزارت حج و عمرہ کے مطابق یکم جون سے 15 جولائی 2026 تک عمرہ ویزوں پر آنے والے زائرین کی تعداد 9 لاکھ 31 ہزار 500 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22.5 فیصد زیادہ ہے۔
بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی مجموعی تعداد 12.7 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان 2 لاکھ زائرین کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد انڈونیشیا 1.7 لاکھ اور عراق 1.3 لاکھ زائرین کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔




