نیشنل

صابن، بسکٹ اور راشن کی قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ

نئی دہلی: صابن، سرف، بسکٹ اور پیکٹ بند کھانا جیسے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو جلد مہنگائی کا جھٹکا لگ سکتا ہے۔ خام تیل سے متعلق اخراجات میں اضافہ، پیکیجنگ سامان اور ایندھن کی قیمتوں

 

میں اضافہ کی وجہ سے منافع پر پڑ رہے دباؤ کو کم کرنے کے لیے فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) کمپنیاں مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ یہ اضافہ مرحلہ وار طریقے سے کیا جائے گا۔

 

کمپنیوں کے عہدیداران نے حالیہ سہ ماہی نتائج کے دوران اشارہ کیا کہ وہ پہلے ہی قیمتوں میں 3 سے 5 فیصد تک اضافہ کر چکی ہیں۔ اگر اخراجات کا دباؤ برقرار رہتا ہے تو مزید اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ایران-امریکہ تنازع

 

کی وجہ سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے خام مال، لاجسٹکس اور پیکیجنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی نے بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کا اثر کھانے کی مصنوعات، کاسمیٹکس، مشروبات اور

 

گھریلو استعمال کے سامان سمیت کئی شعبوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔اخراجات کے دباؤ سے نمٹنے اور منافع کو برقرار رکھنے کے لیے کمپنیاں پیکٹ بند مصنوعات میں مقدار کو کم کرنے جیسی حکمت عملی بھی اپنا رہی ہیں۔ اس کے

 

علاوہ ڈسکاؤنٹ اور پروموشنل اخراجات میں تخفیف، ذخیرہ انتظامات کو مضبوط کرنے اور سپلائی چین کو مزید موثر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود صارفین پر بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ حالانکہ 5، 10

 

اور 15 روپے والے چھوٹے پیک بازار میں برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ فروخت پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے۔اس دوران ہندوستان یونی لیور لمیٹڈ کے چیف فنانشل آفیسر نرنجن گپتا نے کہا کہ ہم پر 8 سے 10 فیصد

 

مہنگائی کا بوجھ پڑا ہے، ہم نے قیمتوں میں 2 سے 5 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ اگر اشیاء کی قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا تو کمپنی قیمتوں میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ ڈابر انڈیا کے گلوبل سی ای او موہت ملہوترا نے کہا کہ کمپنی رواں مالی

 

سال میں 10 فیصد افراط زر کا سامنا کررہی ہے۔ کمپنی نے پہلے ہی مختلف زمروں میں قیمتوں میں 4 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے اور لاگت پر قابو پانے کے اقدامات بھی کر رہی ہے۔اس کے علاوہ برٹانیہ انڈسٹریز کے سی ای او رکشیت ہرگیو نے

 

کہا کہ ایندھن اور پیکیجنگ کے اخراجات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی براہ راست قیمتوں میں اضافے اور پیکٹ کے وزن کو کم کرنے جیسے دونوں متبادل پر غور کر رہی ہے۔ بڑے پیک والی مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اسی طرح

 

نیسلے انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر منیش تیواری نے کہا کہ موجودہ وقت بہت اتار چڑھاؤ والا ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اگلے دو مہینوں میں کیا ہونے والا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر طرح سے تیار رہنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button