نیشنل

غریب کے ہاتھ سے کھانے کی پلیٹ چھینی ؛ ’’مسلمانوں کو کھانا نہیں دیں گے‘‘ — پنکی چودھری کی نفرت انگیز ویڈیو پر ہنگامہ

ہندو رکشا دل کے سربراہ بھوپیندر تومر عرف پنکی چودھری ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔

 

وائرل ویڈیو میں پنکی چودھری ایک غریب شخص کے ہاتھ سے کھانے کی پلیٹ چھینتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتے سنائی دیتے ہیں: ’’ہم ملاؤں کو کھانا نہیں دیں گے، کسی کو برا لگے تو لگے، کوئی مسلمان کھانا نہ کھائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’ملا نہ آئے، صرف ہندو آئے،‘‘ اور امدادی کھانا صرف ہندوؤں تک محدود رکھنے کی بات کی۔

 

اس واقعے کے بعد پنکی چودھری کے ماضی کے متنازع بیانات اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز سرگرمیاں ایک بار پھر موضوع بحث بن گئی ہیں۔ وہ اس سے قبل اگست 2021 میں جنتر منتر پر بھارت جوڑو آندولن ریلی کے دوران مبینہ فرقہ وارانہ نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔

 

غازی آباد میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر مسلمانوں کو ’’جہادی‘‘ قرار دیا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کئی غیر مصدقہ دعوے کیے تھے۔ انہوں نے ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ مسلم افراد کو ہندو اکثریتی علاقوں میں جائیداد خریدنے سے روکا جائے۔

 

فروری 2026 میں ہندو رکشا دل کے کارکنوں نے اتر پردیش کی ایک قومی شاہراہ پر ’’مسلمانوں کے لیے سڑک نہیں‘‘ جیسے نعرے تحریر کیے تھے۔ پنکی چودھری نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان میں صرف ہندو ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

 

ہندو رکشا دل دہلی کے قریب غازی آباد میں قائم ایک ہندو قوم پرست تنظیم ہے۔ اس کے کارکنان پر تلواریں تقسیم کرنے، مسلم مخالف نعرے لگانے اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

 

اگست 2024 میں بھی پنکی چودھری پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے غازی آباد میں ایک مسلم بستی پر حملہ کرنے والے ہجوم کی قیادت کی، جہاں گھروں میں توڑ پھوڑ، سامان کو نذر آتش کرنے اور رہائشیوں پر حملے کیے گئے تھے۔

 

تنظیم خود کو ہندو مفادات کا محافظ قرار دیتی ہے، تاہم  آن کے بیانات پر اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ دوسری جانب تنظیم کے حامی ان کارروائیوں کو ہندو مفادات کے تحفظ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

 

تازہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button