نیشنل

یوپی پولیس کی وفاداری آئین سے نہیں، حکومت سے ہے – پولیس کا "انکاؤنٹر ماڈل” کٹہرے میں، ہائی کورٹ کی سخت تنقید

پریاگ راج:  اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا ہے کہ اتر پردیش میں پولیس افسران کی وفاداری آئین کے بجائے برسرِ اقتدار حکومت کے ساتھ زیادہ نظر آتی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’’افسران کی عمودی وفاداری آئین کی طرف نہیں بلکہ حکمران نظام کی طرف ہوتی ہے۔‘‘

 

جسٹس ونود دیواکر نے کہا کہ اتر پردیش میں سیاست دانوں اور بیوروکریسی کی ’’جاگیردارانہ ذہنیت‘‘ نے طویل عرصے سے آئینی حکمرانی کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی اقتدار اور بالادستی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ 3 جون کو جاری اپنے حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں گہرے سیاسی اثر و رسوخ کا شکار رہا ہے۔

 

عدالت نے نشاندہی کی کہ اتر پردیش میں افسران کے تبادلے، تقرریاں اور ترقیاں میرٹ اور کارکردگی کے بجائے سیاسی سرپرستی کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ جو افسران حکمرانوں کے وفادار سمجھے جاتے ہیں انہیں شہری پولیس کمشنریوں اور اہم و بااختیار اضلاع جیسی پسندیدہ تعیناتیاں دی جاتی ہیں، جبکہ آزادانہ طرزِ عمل اختیار کرنے والے افسران کو سزا کے طور پر غیر اہم عہدوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے، جو ایک معروف حقیقت ہے۔

 

عدالت نے مزید کہا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے افسران تبادلوں اور تعیناتیوں کے نظام سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، اسی لیے وہ اپنی کارکردگی اور طرزِ عمل کو سیاسی بالادستوں کو خوش کرنے کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ عدالت کے مطابق انکاؤنٹر ہلاکتیں، منتخب افراد کے خلاف کارروائیاں اور ناپسندیدہ اشخاص کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کا ہدف بنا کر استعمال وقتاً فوقتاً عدالتی توجہ کا مرکز بنتا رہا ہے۔

 

ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ایک اہم فیصلے میں اتر پردیش پولیس کی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انکاؤنٹر کلچر، قانون کے انتخابی استعمال اور اتر پردیش گینگسٹرز اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ 1986 کے مبینہ غلط استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے ایک خاندان کے تین افراد کے خلاف فوجداری کارروائی منسوخ کرتے ہوئے پولیس کے اختیارات کے بے جا استعمال اور ادارہ جاتی جوابدہی کی کمی پر تشویش ظاہر کی۔

 

جسٹس ونود دیواکر نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر 35 سالہ گھریلو خاتون للیتا تیاگی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری "واضح طور پر غیر قانونی، من مانی اور مکمل طور پر غیر ضروری” تھی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ چارج شیٹ میں خاتون کے خلاف کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں تھا، اس کے باوجود ایف آئی آر درج ہونے کے اگلے ہی دن انہیں گرفتار کر لیا گیا اور وہ تقریباً 80 دن تک عدالتی تحویل میں رہیں۔

 

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ گینگسٹر ایکٹ کا استعمال اکثر معمولی جرائم میں ملوث افراد یا سول تنازعات میں الجھے لوگوں کے خلاف کیا جاتا ہے، جبکہ منظم جرائم کے بڑے نیٹ ورک اکثر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بعض اوقات پولیس کی کارروائیاں آئینی اصولوں کے بجائے سیاسی حکام کو خوش کرنے کے لیے کی گئی محسوس ہوتی ہیں، جس سے "ادارہ جاتی استثنیٰ” کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔

 

ہائی کورٹ نے ضابطۂ فوجداری (CrPC) اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کے تحت فراہم کردہ قانونی تحفظات کو نظر انداز کرنے کے رجحان پر بھی تنقید کی۔ عدالت نے 2020 کے مشہور بکرو قتلِ عام اور گینگسٹر وکاس دوبے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی نشاندہی کے باوجود ایک افسر کو صرف رسمی تنبیہ دی گئی۔

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات ازخود کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کی تعریف پر پورا نہیں اترتے، کیونکہ مقدمے میں تشدد، دھمکی یا مربوط مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اس وقت کے اجے کمار مشرا کو ہدایت دی کہ گینگ چارٹ کی منظوری اور گرفتاریوں کے معاملے میں قانونی تقاضوں کی سختی سے پابندی یقینی بنائی جائے۔

 

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہائی کورٹ ماضی میں بھی اتر پردیش میں مبینہ "انکاؤنٹر کلچر” پر سوالات اٹھا چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 تک گزشتہ نو برسوں کے دوران اتر پردیش پولیس نے 17,043 انکاؤنٹر کیے، جن میں 289 مبینہ جرائم پیشہ افراد ہلاک، 34,253 گرفتار اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔

 

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں کے مسلمانوں، دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات پر غیر متناسب اثرات، "ہاف انکاؤنٹر” جیسی مبینہ کارروائیوں اور عدالتی عمل مکمل ہونے سے قبل بلڈوزر کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

 

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ پولیس کی بنیادی وفاداری آئین اور قانون کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات کے ساتھ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابدہی کو یقینی بنانا جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button