نیشنل

محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ نامناسب، تعلیمی ادارے کو تباہ نہ کیا جائے: ششی تھرور

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے اتر پردیش میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "نامناسب” قرار دیا اور حکومت سے اپیل کی کہ ایک فعال تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کے بجائے کوئی متبادل قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔

 

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں، جس کے بعد انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔

 

سماجوادی پارٹی کے قید رہنما اعظم خان کی قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب یہ عمارتیں تعمیر کی گئیں، اس وقت یونیورسٹی کا کیمپس رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا۔ تاہم اتھارٹی نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

 

ششی تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اتر پردیش پہلے ہی معیاری اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی کا شکار ہے، ایسے میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو بلڈوزر سے منہدم کرنا ایک غیر مناسب فیصلہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر تعمیرات میں کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو حکومت جرمانہ عائد کرے، دیگر قانونی سزائیں دے یا ضرورت پڑنے پر ادارے کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے، لیکن ریاست کو جس فعال یونیورسٹی کی ضرورت ہے اسے تباہ نہ کیا جائے۔

 

دوسری جانب اس انہدامی کارروائی کے حکم پر سیاسی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اس فیصلے کی سختی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا۔

 

ادھر یونیورسٹی انتظامیہ نے انہدامی حکم کے خلاف مرادآباد ڈویژنل کمشنر کی عدالت سے رجوع کیا ہے، جہاں اس معاملے کی آئندہ سماعت 28 جولائی کو مقرر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button