آسام کے ایک اسکول میں مبینہ طور پر بیف بریانی لانے پر خاتون گرفتار، نابالغ بیٹا حراست میں
نئی دہلی : آسام کے ضلع گوالپارہ کے کرشنائی گاوں میں ایک سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول میں مبینہ طور پر بیف بریانی لانے کے معاملے نے تنازعہ کھڑا کردیا۔ پولیس نے ایک مسلم خاتون نور شاہدہ بیگم کو گرفتار جبکہ ان کے نابالغ بیٹے کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق نویں جماعت کے ایک طالب علم نے جمعہ کے روز اپنے ٹفن میں بیف بریانی لاکر مبینہ طور پر دو ہندو ہم جماعتوں کو کھانے کی پیشکش کی تھی۔ شکایت کے بعد پولیس نے خاتون اور ان کے بیٹے کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے، مجرمانہ سازش اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
دوسری جانب زیرِ تفتیش ایک طالب علم کے والد نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو زبردستی بیف کھلانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ہندو طلبہ نے خود کھانے کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں صرف چاول پیش کئے گئے تھے، گوشت نہیں۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور سینئر پولیس حکام نے اسکول کا دورہ کیا۔ اسکول انتظامیہ بھی مبینہ طور پر واقعے میں شامل پانچ مسلم طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی، بشمول اخراج، پر غور کر رہی ہے۔



