شوہر کا اپنی بیمار بیوی کی خدمت کرنا حسنِ معاشرت، سنتِ نبویؐ اور باعثِ اجر عمل ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

شوہر کا اپنی بیمار بیوی کی خدمت کرنا حسنِ معاشرت، سنتِ نبویؐ اور باعثِ اجر عمل ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 2 اگست:(پریس ریلیز)اسلام نے خاندانی نظام کو محبت، رحمت، ایثار اور باہمی تعاون کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ صرف حقوق و فرائض کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے، ہمدردی، شفقت اور حسنِ سلوک کا حسین نمونہ ہے۔ خصوصاً بیماری کے ایام میں ایک دوسرے کی خدمت، دلجوئی اور تیمارداری ازدواجی زندگی کو مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے ایسے مواقع پر محبت، نرمی اور حسنِ معاشرت کی تلقین فرمائی ہے، جو ایک مثالی اسلامی خاندان کی پہچان ہے۔
چیئرمین لینگویجز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن، خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12 پر منعقدہ ہفتہ وار پروگرام "عوامی مسائل کا حل احکامِ شریعت کی روشنی میں” کے دوران عوام کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر بیوی بیماری کی حالت میں ہو تو شوہر کا محبت، شفقت اور حسنِ معاشرت کے جذبے کے تحت اس کی خدمت کرنا، دوا پلانا، سر یا پاؤں دبانا، تیمارداری کرنا، اس کی دلجوئی کرنا اور ہر ممکن سہارا دینا شرعاً بالکل جائز، باعثِ اجر اور نہایت پسندیدہ عمل ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
"اور ان عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔” (سورۂ نساء: 19)
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ اخلاق، نرمی، محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کرے، خصوصاً بیماری اور کمزوری کے وقت اس کا ساتھ دے۔
مولانا نے مزید فرمایا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم سب سے بہتر ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ نہایت محبت اور حسنِ سلوک کا معاملہ فرماتے، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور اپنی عملی زندگی سے امت کو یہ تعلیم دیتے کہ گھر کا ماحول محبت، تعاون اور خدمت سے آراستہ ہونا چاہیے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے فرمایا کہ شوہر کا اپنی خوشی اور محبت سے بیمار بیوی کے سر یا پاؤں دبانا، اس کی تیمارداری کرنا یا اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا نہ صرف حسنِ معاشرت کا تقاضا ہے بلکہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ، اعتماد میں مضبوطی اور گھریلو زندگی میں سکون پیدا ہوتا ہے۔ ایسے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجر و ثواب کا ذریعہ بنتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ شوہر کی جانب سے اس نوعیت کی خدمت محبت اور حسنِ سلوک کا اظہار ہے، البتہ اسے شرعی فرض یا نکاح کی لازمی شرط قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح اسلام کسی بھی ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دیتا جس میں شوہر یا بیوی میں سے کسی کی تذلیل یا تحقیر مقصود ہو۔
آخر میں مولانا نے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں خاندانی نظام مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، وہاں میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت، صبر، برداشت، احترام اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیں۔ خصوصاً بیماری اور آزمائش کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بننا اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور ایک خوشحال، پُرسکون اور مضبوط خاندان کی بنیاد ہے۔



