قلم منہ میں پکڑ کر لکھا بورڈ کا امتحان ۔ جسمانی طور پر معذور فیضان اللہ کی کامیابی کی غیر معمولی داستان

نئی دہلی: جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع سے تعلق رکھنے والے محمد فیضان اللہ نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جسمانی کمزوری کبھی بھی مضبوط ارادوں کو شکست نہیں دے سکتی۔ سیریبرل پالسی جیسے پیچیدہ مرض کے
باوجود انہوں نے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں 93 فیصد نمبر حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے امید اور حوصلے کی نئی مثال قائم کر دی۔فیضان اللہ کا تعلق گوڈا کے شیواجی نگر کے ایک سادہ مگر باہمت
گھرانے سے ہے۔ ان کے والد محمد انور عالم ایک خانگی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ فیضان اللہ کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد والدین کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی نشوونما عام بچوں سے مختلف ہے۔ چھ ماہ کی عمر
میں جب ان کی جسمانی حرکتیں محدود نظر آئیں تو طبی معائنے کے بعد یہ تشخیص سامنے آئی کہ وہ سیریبرل پالسی کا شکار ہیں۔ یہ خبر خاندان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی لیکن اس کے باوجود والدین نے ہار ماننے کے بجائے اپنے
بیٹے کے مستقبل کو سنوارنے کا فیصلہ کیا۔فیضان اللہ کی والدہ نجمہ بتاتی ہیں کہ مشکلات کے باوجود جب ان کا بیٹا بولنے لگا تو گھر میں امید کی ایک نئی کرن جاگ اٹھی۔ یہی لمحہ تھا جس نے والدین کے حوصلے کو مزید مضبوط کیا اور
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ہر ممکن تعلیم دیں گے۔چونکہ فیضان اللہ عام بچوں کی طرح اسکول نہیں جا سکتے تھے، اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی شروع ہوئی۔ ان کے والد نے خود انہیں اردو، ہندی، انگریزی، عربی
اور ریاضی کی بنیادی تعلیم دینا شروع کی۔ یہ ایک مشکل سفر تھا، لیکن لگن اور مستقل مزاجی نے اسے ممکن بنا دیا۔
بعد میں ان کا داخلہ ایک مقامی اسکول میں کروایا گیا لیکن اصل تبدیلی اس وقت آئی جب استاد جتیندر کمار بھگت ان
کی زندگی کا حصہ بنے۔ انہوں نے نہ صرف فیضان اللہ کی صلاحیت کو پہچانا بلکہ ان کی تعلیم کے لیے ایک نیا راستہ بھی بنایا۔ چونکہ فیضان ہاتھوں سے لکھنے کے قابل نہیں تھے، اس لیے استاد نے مختلف طریقے آزمائے اور آخرکار ایک انوکھا
حل نکالا قلم کو ان کے منہ کے ذریعے استعمال کروانا۔یہ طریقہ ابتدا میں مشکل ضرور تھا لیکن مسلسل مشق نے اسے مہارت میں بدل دیا۔ وقت کے ساتھ فیضان اللہ نے منہ سے لکھنا سیکھ لیا اور ان کی تحریر اتنی بہتر ہو گئی کہ عام طلبہ
کی لکھائی سے ممتاز کرنا مشکل ہو گیا۔فیضان اللہ کی محنت کا یہ سفر صرف پڑھائی تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے آٹھویں جماعت میں اپنے اسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی، اور بعد میں ایک ضلعی تقریری مقابلے میں بھی کامیابی
حاصل کی۔ ان کی کارکردگی نے انہیں ایک لیپ ٹاپ جیتنے کا موقع دیا، جس نے ان کی تعلیم کو ایک نیا رخ دیا۔
ٹیکنالوجی سے دلچسپی نے ان کی دنیا بدل دی۔ انہوں نے کمپیوٹر، ایم ایس آفس، اور یہاں تک کہ مصنوعی ذہانت کے
بنیادی استعمال تک سیکھ لیا۔ وہ اپنی پڑھائی کے لیے ڈیجیٹل کتابیں استعمال کرتے، سوالات خود تیار کرتے اور مسلسل پریکٹس کے ذریعے اپنی سمجھ کو مضبوط بناتے رہے۔بورڈ امتحان میں انہیں لکھنے کے لیے معاون (رائٹر) کی سہولت
حاصل تھی مگر انہوں نے زیادہ تر پرچے خود لکھنے کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق اپنی محنت سے لکھے گئے الفاظ میں جو اعتماد اور سکون ہوتا ہے، وہ کسی اور کے ذریعے ممکن نہیں۔ خاص طور پر ریاضی جیسے مشکل مضمون میں انہوں
نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 98 نمبر حاصل کیے۔فیضان اللہ کی یہ کامیابی صرف ایک تعلیمی نتیجہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے — ان تمام نوجوانوں کے لیے جو حالات سے گھبرا کر ہار مان لیتے ہیں۔ ان کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ اگر انسان
کے پاس حوصلہ، مستقل مزاجی اور خود پر یقین ہو تو کوئی بھی رکاوٹ اسے کامیابی سے نہیں روک سکتی۔
آج فیضان اللہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں کہ مشکلات چاہے کتنی
ہی بڑی کیوں نہ ہوں، ارادے مضبوط ہوں تو راستے خود بن جاتے ہیں۔




