عادِل آباد رمس آتشزدگی: متاثرہ خاندانوں کو 25 لاکھ روپے ایکس گریشیا دیا جائے : کے ٹی آر

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے عادِل آباد رمس ہاسپٹل میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حادثے میں اپنے بچوں کو کھونے والے ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے ایکس گریشیا دیا جائے۔ انہوں نے زخمی بچوں کو فوری طور پر بہتر طبی علاج فراہم کرتے ہوئے ان کی جان بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
کے ٹی آر نے کہا کہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے سے تین نومولود بچوں کی موت انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جبکہ حادثے میں مزید 23 بچے زخمی ہوئے ہیں۔
سابق وزیر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کی سنگین ناکامی کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کو بلاوجہ اپنی جان گنوانی پڑی، جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔
کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی کے چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ریاست کے سرکاری شعبۂ صحت کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رمس اسپتال میں پیش آئے واقعہ کی مکمل ذمہ داری چیف منسٹر ریونت ریڈی قبول کریں۔
انہوں نے کہا کہ عادِل آباد رمس ہاسپٹل کی خراب صورتحال کے بارے میں ضلع سطح کے بی آر ایس قائدین نے کئی مرتبہ حکومت کو خبردار کیا تھا، لیکن حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔
کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ بچوں کے وارڈ جیسے حساس مقام پر، جہاں سخت حفاظتی انتظامات ضروری تھے، سرکاری نگرانی ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ مناسب دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کے باعث یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عادِل آباد رمس کے علاوہ ریاست بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے وارڈز اور آئی سی یوز کا ماہرین کے ذریعے فوری معائنہ کرایا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔



