عادل آباد ریمس واقعہ میں 5 بچوں کی اموات دراصل حکومت کی جانب سے ہلاکتیں : کے کویتا

ریمس واقعہ میں 5 بچوں کی اموات دراصل حکومت کی جانب سے ہلاکتیں
*متاثرہ خاندانوں کو فی کس 50 لاکھ روپئے معاوضہ دیا جائے*
*چیف منسٹر ریونت ریڈی کے پاس فٹ بال کھیلنے اور بیرون ملک گھومنے کا وقت ہے لیکن یہاں کے حالات کے جائزہ کی فرصت نہیں*
*ٹی آر ایس کی جانب سے متاثرہ 5 خاندانوں کو فی کس50 ہزار روپئے مالی امداد کی فراہمی۔ حکومت پر شدید تنقید*
*کے کویتا کا دورہ۔ غمزدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت ۔زیر علاج بچوں کی عیادت*
عادل آباد ریمس اسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ میں پانچ نومولود بچوں کے جان کےضیاع کو تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے حکومت کی جانب سے ’’مکمل طور پر انسانی جانوں کی ہلاکت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غفلت کے باعث ابھی دنیا میں آئے چند دن بھی مکمل نہ کرنے والے ننھے معصوم بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے گود لئے گئے ضلع میں اتنا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آنے کے باوجود وزیراعلیٰ کو یہاں آکر حالات کا جائزہ لینے کی فرصت کیوں نہیں ملی؟ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پاس فٹ بال کھیلنے اور بیرون ملک گھومنے کا وقت ہےلیکن اقلیتی اور قبائلی بچوں کی موت پر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وقت نہیں ہے۔کویتا نے آج عادل آباد ریمس اسپتال کے ایس ایس این سی یو کا معائنہ کیا جہاں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے اسپتال کے عملے، بچوں کے والدین اور رشتہ داروں سے حادثہ کی تفصیلات دریافت کیں اور واقعہ کس طرح پیش آیا، اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی غفلت کے باعث اپنے بچوں کو کھونے والے خاندانوں کو 50 لاکھ روپئے فی کس معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی رقم معاوضہ نہیں بلکہ ’’جرمانہ‘‘ ہونا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق بچوں کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ حادثہ میں زخمی زیر علاج بچوں کے خاندانوں کو بھی اتنی ہی رقم دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام خاندان غریب ہیں اور مستقبل میں ان بچوں کو پیش آنے والے ممکنہ صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بھی معاوضہ فراہم کیا جانا چاہئے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے گود لئےگئے ضلع میں حالات اس قدر ابتر ہونا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 ماہ سے وزیراعلیٰ یا وزیر صحت کا اس علاقہ کا دورہ نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ حادثہ کے بعد اسپتال کا دورہ کرنے والے وزیر صحت کے طرز عمل پر بھی انہوں نے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت ایسے آئے جیسے کسی تفریحی دورے پر آئے ہوں اور ڈیڑھ گھنٹے تک بھی وہاں نہیں رکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر نے متاثرین کو کوئی حوصلہ نہیں دیا اور نہ ہی ان کے دکھ میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ غریب متاثرین کو ایک پیسہ بھی مالی مدد نہ دینا ناانصافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر کا رویہ ’’آئے، دیکھا اور چلے گئے‘‘ جیسا رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس واقعہ میں حکومت نے جس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے، اس کی قیمت اسے ضرور چکانی پڑے گی۔کویتا نے کہا کہ ریمس میں پیش آئے یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کانگریس حکومت کی غفلت کے باعث پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور مطلوبہ فنڈز مختص نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد ریمس میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اس اسپتال میں 1500 بچے داخل ہوئے، جن میں سے 204 بچوں کی موت ہوئی۔ اس سے قبل کے سال میں 1300 بچے داخل ہوئے تھے اور 174 بچوں کی موت واقع ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس صورتحال کا جائزہ لینے نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ ایجنسی علاقوں سے اسپتال آنے والی سڑکیں انتہائی خراب ہونے کے باعث حاملہ خواتین اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ رہی ہیں۔ اسپتال میں مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بچے بھی موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں 350 ڈاکٹروں کی ضرورت ہے وہاں صرف 150 ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں اور صرف 20 فیصد صفائی عملے کے ساتھ اسپتال چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جہاں 150 اے سی موجود ہیں وہاں ایک بھی اے سی میکانک نہ ہونا کیسے ممکن ہے۔؟کویتا نے کہا کہ آروگیہ شری اسکیم کے تحت 500 کروڑ روپئے کے بقایاجات زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ریمس ہی نہیں بلکہ ریاست بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں تقریباً یہی صورتحال ہے۔ انہوں نے ورنگل ایم جی ایم اسپتال میں چھت گرنے کے واقعہ اور ناگرکرنول میں چوہوں کی جانب سے ای سی جی مشین کو نقصان پہنچانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ریاستی بجٹ میں صحت کے شعبے کے لئے 10 فیصد رقم مختص کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 5 فیصد بھی رقم مختص نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اس رقم کا بھی نصف حصہ صرف تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے، تو عوام کو بہتر طبی سہولیات کس طرح فراہم کی جا سکتی ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں کی صورتحال سے متعلق فوری طور پر فارنسک آڈٹ کرائی جائے
۔کویتا نے کہا کہ ریمس میں آتشزدگی کے لئے حکومت کی غفلت کے ساتھ اسپتال کے ڈائرکٹر کی لاپرواہی بھی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسپتال کی صورتحال سے حکومت کو آگاہ کرنے میں ڈائرکٹر ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹر نے بھی اسپتال کی صورتحال کا جائزہ نہیں لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپتال کے ڈائرکٹر کو معطل کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حادثہ سے بچ جانے والے اور نجی اسپتالوں میں داخل بچوں کے علاج کے تمام بل حکومت خود ادا کرے۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ عادل آباد ضلع میں ایک ماہ کے اندر عوام کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے زیر التوا بقایاجات ادا کرنے، اسپتالوں میں عملے کی تعداد بڑھانے اورایجنسی علاقوں میں مناسب سڑکیں تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرکز کی جانب سے قبائلیوں کے لئے فراہم کئے گئے فنڈز کا حساب بھی پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ایک ماہ کے اندر عادل آباد آکر صورتحال کا جائزہ لیں بصورت دیگر انہوں نے خبردار کیا کہ قبائلیوں کے ساتھ مل کر عادل آباد ضلع کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ایسی نہیں ہے جو صرف رسمی طور پر آکر صورتحال دیکھ کر چلی جائے، بلکہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے
۔ انہوں نے کہا کہ ’’سوال کریں گے، جدوجہد کریں گے، حل کریں گے‘‘ ان کی پالیسی ہے۔ انہوں نے دیگر جماعتوں کے قائدین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل پر ’’آتے ہیں، دیکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں‘‘ کے انداز میں کام کرتے ہیں۔کویتا نے اعلان کیا کہ عادل آباد ضلع میں بچوں اور حاملہ خواتین کی اموات کے ساتھ ساتھ عوام کے ہیلت پروفائل کا مطالعہ کرنے کے لئے ٹی آر ایس کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی عوام کی صحت کی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لےگی۔انہوں نے یاد دلایا کہ چھ ماہ قبل ’’جَنَم باٹا‘‘ پروگرام کے تحت عادل آباد کے دورہ کے وقت انہوں نے یہاں کے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سرسبز جنگلات سے بھرے عادل آباد ضلع میں کینسر کے کیسس میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کو اس مسئلہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کویتا نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ ریمس کے متاثرین کو انصاف ملنے تک جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام مشکلات میں ہوں تو ان کے دکھ میں شریک ہونا چاہئے اور عوامی مسائل پر مسلسل جدوجہد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے عوامی مسائل پر جدوجہد کی ہوتی تو ریمس میں اس طرح کا حادثہ پیش نہ آتا۔کویتا نے ریمس کے ایس این سی یو میں آتشزدگی کے واقعہ سے بچ جانے والے اور عادل آباد کے نجی اسپتالوں میں زیر علاج متاثرہ بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کیں۔
انہوں نے شیر خوار بچوں کے والدین سے ملاقات کی، ان کی عیادت کی اور انہیں حوصلہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت کی جانب سے امداد فراہم کرنے اور انہیں انصاف دلانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے حادثہ کے فوراً بعد ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بچوں کی جان بچانے والوں کی بھی ستائش کی۔
ریمس اسپتال کے ایس این سی یو آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے پانچ بچوں کے خاندانوں کو تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے فی خاندان 50 ہزار روپئے کی مالی مدد فراہم کی۔ تین بچوں کے خاندانوں کو منگل کی شام ہی مالی مدد فراہم کی گئی تھی، جبکہ بدھ کے روز باقی دو بچوں کے خاندانوں کے افراد کو بھی مالی امداد دی گئی۔ کویتا نے کہا کہ وہ بچوں کو واپس نہیں لا سکتیں، تاہم غمزدہ خاندانوں کو حوصلہ اور سہارا فراہم کرنا ہی ان کا عزم ہے۔



