علی گڑھ یونیورسٹی کے کردار کی بحالی۔اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات ناگزیر۔ پریشر گروپ کی تشکیل کے ذریعہ مسائل کی یکسوئی پر زور ۔میڈیا پلس میں راؤنڈ ٹیبل زوم کانفرنس

حیدرآباد۔(ای میل) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی زمین پر قبضے ہورہے ہیں۔ غیر سماجی عناصر نے یونیورسٹی کی 100 سالہ ملکیت پر قبضہ کر لیا ہے۔ غیر سماجی عناصر قبضہ کرتے رہے، سائن بورڈز لگاتے رہے لیکن یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا، چیف منسٹر سے برائے نام ملاقات کی فوٹو کھنچوائی اور سمجھ لیا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ باؤنڈری کے ٹوٹ جانے کی وجہ وال کے سبب یونیور سٹی کی زمین پر غیر سماجی عناصر قبضے کرتے جا رہے ہیں۔ اور یونیورسٹی حکام خواب غفلت میں ہیں ،ان خیالات کا اظہار میڈیا پلس حیدرآباد دکن میں پیر 21 ستمبر کو راؤنڈ ٹیبل زوم کانفرنس میں جناب زیڈ کے فیضان نے کیا، زوم کانفرنس کا اہتمام مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے سینئر رکن اعظم گڑھ ایجوکیشن مشن ابو صالح اکیڈیمی لائبریری اعظم گڑھ کے صدر ڈاکٹر فیروز طلت(علیگ) نے حیدرآباد میں مقیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبہ سے تبادلہ خیال کے لیے کیا تھا۔
اس راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے داعی ڈاکٹر محمد ساجدعلی (علیگ) تھے۔ جناب زیڈ کے فیضان نے کہا کہ اگر وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی اور یونیورسٹی کے دیگر تمام ذمہ داران متحد ہوتے تو غیر مجاز قابضین کو فوری بے دخل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ان ذمہ داران کی چشم پوشی کے باعث یونیورسٹی کی عظمت کو عظیم نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دنیا بھر کے تمام علیگیرینز کو متحد ہونا اور ایک پریشر گروپ تشکیل دینا ضروری ہے
جب تک ایک متحدو منظم پریشر گروپ تشکیل نہیں دیا جائے گا علی گڑھ یونیورسٹی اپنا کردار بحال ہوگا نہ اس کے مسائل حل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ بعض مذہبی جنونی عناصر یونیورسٹی کی زمین پر جنونی نعرے لگا رہے ہیں اور علی گڑھ یونیورسٹی کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بچانے کی ذمہ داری تمام اردو والوں پر اور بالخصوص یہاں کے فارغین پر عائد ہوتی ہے۔ ہماری کوتاہیوں یونیورسٹی کی حالت ابتر کا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ تمام طلبہ کو جواب دہی کے تصور کے ساتھ آگے آ نا ہوگا اور سر سید کے خوابوں کی اس عظیم الشان عمارت اور تعلیمی ماحول کو پراگندہ ہونے سے بچانے کے لیے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
جناب راحت ابرار نے کہا کہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کی سر سیدؒ کے تعلیمی مشن سے عدم دلچسپی نے یونیورسٹی کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ طلبہ قدیم کی سرگرمی سالانہ تقاریب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تدریسی اور غیر تدریسی عملہ میں یونیورسٹی سے وابستگی کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی اردو والوں کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے، اس کو بچانے کے لیے ہم کو آگے آنے کی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کا تعلیمی نظام اس دور میں اچھا رہا جب وہاں آئی ایس آفیسرکے ہاتھ میں انتظام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر قدم ملی مفاد میں ہونا چاہیے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹی کے قدیم طلبہ میں سے سرکردہ شخصیات کو شامل کرتے ہوئے ایک پریشر گروپ تشکیل دیا جائے جو انتظامیہ اور حکومت پر دباؤ ڈال سکے۔
ممبئی سے جناب طاہر محمد علیگ نے کہا کہ ہم صرف مرض کے نشاندہی کررہے ہیں اس کا علاج اور اس کی دوا تجویز کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر جن عناصر نے قبضہ کیا ہے، ان کو وہاں سے فوری بے دخل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تاخیر ہونے پر غیر مجاز قابضین کا موقف مستحکم ہو سکتا ہے۔ پروفیسر لقمان نے کہا کہ جامعہ میں ریگولر فیکلٹی اہم ضرورت ہے، گیسٹ فیکلٹی صرف ایک ڈرامہ ہے جو جامعہ کے تعلیم نظام کو برباد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کا قدیم کلچر جو جامعہ کی پہچان تھا وہ ختم ہو رہا ہے ،ٹو ویلر گاڑیوں کی بہتات ،یونیورسٹی تہذیب کو ختم کرنے کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہماری 25 کروڑ سے زائد کی آبادی ہے مگر ملک میں ہماری پانچ یونیورسٹیز بھی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹوڈنٹس یونین کی عدم موجودگی حالات کے مزید بگاڑنے کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبرز کی عدم دلچسپی سے یونیورسیٹی کا معیار گھٹ رہاہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کے ہر شعبے میں کرپشن کی اطلاعات ہیں لیکن اس جانب کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے۔ جناب افروز طلت نے کہا کہ جامعہ کی تنظیمی بے قاعدگیوں کی وجہ سے یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول پر نہایت خراب اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اقرباء پروری کرپشن اور ارباب مجاز میں عدم دلچسپی نے تعلیمی ماحول کو کافی متاثر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کے مشن کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ذاتی مفادات سب پر غالب آگئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق طلبہ جو جامعہ کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں وہ اس جانب اگر خصوصی توجہ دیں تو پھر یہاں کے تعلیمی ماحول کے علاوہ یونیورسٹی کی زمین پر جو غیر مجاز قبضے ہو گئے ہیں ان کو فوری طور پر برخاست کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق طلبہ کا قدیم ایکشن گروپ جو عرصے سے غیر کارکرد ہے، اگر یہ پھر سے کارکرد ہو جائے تو یونیورسٹی کے تمام مسائل کے حل میں سہولتطہو سکتی ہے۔ جناب کے این واصف( نان علیگ) نے کہا کہ دنیا بھر میں علی گڑھ یونیورسٹی کے سالانہ جشن نے ایک تفریحی تقریب بن گئی ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے تحفظ اور اس کے قدیم ورثے کی بحالی کے لیے تمام قدیم طلبہ کو سرجوڑ کر بیٹھنا اور اپنی مادر درسگاہ کے حالات پر غور کرنا اور اس کے حل کی تلاش پر اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے جامعہ کے ذمہ داروں سے مسلسل نمائندگی کرتے ہوئے اپنی سنجیدہ وابستگی کا اظہار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس زوم میٹنگ میں سبھی نے ایک پریشر گروپ کی تجویز دی ہے، اس کو عاجلانہ طور پر روبہ عمل لانے کی ضرورت ہے۔ اس پر سنجیدگی سے غور اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔
جناب کے این واصف نے یہ بھی کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلے میں ہم سب آپس میں متحد و منظم ہو جائیں، جذباتی گفتگو اور ایک دوسرے پر تنقیدوں سے پرہیز کرتے ہوئے کھلے ذہن کے ساتھ ملی مفاد میں اقدام اٹھائے جانے چاہئے۔ جناب محمد مظفر احمد (نان علیگ) نے جناب افروز طلعت سے کہا کہ وہ ملک اور بیرون ملک اولڈ بوائز اسوسی ایشنس کی فہرست مرتب کریں اور اسے گلوبل گروپ کا حصہ بنائیں۔
چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے علی گڑھ یونیورسٹی کی عظمت رفتہ کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت ،تجاویز اور خیالات سے اپنے آپ کو وابستہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کو متاثر ہونے نہ دیا جائے اور یہاں پر جو بدانتظامی، کرپشن کی اطلاعات ہیں ان سب کا خاتمہ ہو اور جامعہ کی زمین پر جو ناجائز قبضے ہوئے ہیں، انہیں وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے دیگر تمام ذمہ داران توجہ دیں اور ناجائز قبضوں کو برخاست کروانے میں عملی طور پر متحرک ہو جائیں۔
اس موقع پر حسام الدین ریاض،پروفیسر محمد مسعود احمد،جناب سید ضیا الرحمٰن CEO نیوز پورٹل Yahind.com کے علاوہ دیگر اصحاب بھی موجود تھے۔اس راؤنڈ ٹیبل کی میزبانی میڈیا پلس فاؤنڈیشن نے کی۔



