تلنگانہ

تلنگانہ میں کرناٹک طرز پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (PRC) جاری کرنے پر غور: محمد علی شبیر

حیدرآباد، 13 جولائی: تلنگانہ حکومت کرناٹک کی طرز پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (PRC) کا نظام متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے پیر کو بتایا کہ اس سلسلے میں ایک کابینہ ذیلی کمیٹی  تشکیل دیے جانے کا امکان ہے، جو اس تجویز کا جائزہ لے گی۔

 

محمد علی شبیر نے بتایا کہ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو ایک مکتوب پیش کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ریاست میں طویل عرصے سے مقیم افراد کے لیے حکومت کی جانب سے ایک معیاری مستقل رہائشی دستاویز جاری کی جائے، تاکہ انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران رہائش کے ثبوت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے ووٹروں کو سہولت مل سکے۔

 

انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اس تجویز پر اعلیٰ حکام کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا ہے اور امکان ہے کہ حکومت کرناٹک کے پی آر سی نظام کا مطالعہ کرنے اور تلنگانہ میں اسی طرز کا نظام نافذ کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دے گی۔

 

شبیر علی کے مطابق، مجوزہ پی آر سی ایسے شہریوں کے لئے حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ ایک اضافی دستاویز ثابت ہو سکتا ہے، جو جاری ایس آئی آر کے دوران حوالہ کے طور پر استعمال ہونے والی 2002 کی ووٹر لسٹ میں اپنا یا اپنے خاندان کے افراد کا نام تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تصدیق کے دوران قابل قبول دستاویزات کی فہرست میں ریاستی حکومت کے مجاز ادارے کی جانب سے جاری کردہ مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے۔ اس لیے تلنگانہ حکومت کی جانچ کے بعد جاری کیا گیا پی آر سی مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ووٹر کی اہلیت ثابت کرنے کے لیے معاون ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

 

محمد علی شبیر نے واضح کیا کہ گھر گھر مردم شماری فارم جمع کرنے کے ابتدائی مرحلے میں ووٹروں سے کسی قسم کی دستاویز طلب نہیں کی جا رہی۔ تاہم جن ووٹروں کے نام 2002 کی ووٹر لسٹ سے نہیں مل سکیں گے، انہیں بعد میں نوٹس جاری کرکے انتخابی حکام کے سامنے ضروری دستاویزات پیش کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پی آر سی خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہوگا جو 2002 میں ووٹر بننے کی عمر کو نہیں پہنچے تھے، شادی کے بعد جن خواتین کے نام یا پتے تبدیل ہو گئے، وہ خاندان جو مختلف اسمبلی حلقوں یا اضلاع میں منتقل ہوئے، یا ایسے افراد جن کے نام پرانے ریکارڈ میں املا یا زبان کی تبدیلی کی وجہ سے مختلف درج ہیں۔

 

ان کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ غریب اور معمر شہریوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جن کے پاس پرانے پیدائشی، تعلیمی، جائیداد یا ملازمت کے ریکارڈ موجود نہیں ہیں، یا ایسے مستقل رہائشی جن کے دستاویزات مختلف سرکاری محکموں میں بکھرے ہوئے ہیں۔

 

کرناٹک کے ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ وہاں مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ درخواست گزار کی رہائش کی مکمل جانچ اور تصدیق کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔ ریونیو حکام کسی ایک دستاویز کی عدم دستیابی کی بنیاد پر درخواست مسترد کرنے کے بجائے دستیاب تمام شواہد کا مجموعی جائزہ لیتے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پیدائش، طویل مدتی رہائش، تعلیمی ریکارڈ، والدین یا شریک حیات کی رہائشی حیثیت، جائیداد کے کاغذات، ووٹر لسٹ میں اندراج، آدھار، راشن کارڈ، سرکاری ملازمت کا ریکارڈ اور دیگر معتبر شواہد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مقامی سطح پر تحقیقات بھی کی جاتی ہیں۔

 

شبیر علی نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بھی ایسا شفاف اور لچکدار نظام نافذ کیا جائے تو ان حقیقی رہائشیوں کو بڑی راحت ملے گی، جن کے پاس اگرچہ کوئی ایک مخصوص دستاویز موجود نہ ہو، لیکن ریاست سے ان کے طویل تعلق کے متعدد شواہد موجود ہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ ان کی تجویز کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تقریباً 25 سال قبل تیار کی گئی ووٹر فہرست میں نام نہ ہونے کی وجہ سے حقیقی رہائشی کسی نقصان یا پریشانی کا شکار نہ ہوں۔

 

شبیر علی نے کہا کہ "ایک مؤثر اور منظم پی آر سی نظام شہریوں کو حکومت سے تصدیق شدہ موجودہ رہائشی دستاویز فراہم کر سکتا ہے، جبکہ حکام کو مکمل جانچ کا اختیار بھی برقرار رہے گا۔ اس سے دستاویزی بوجھ کم ہوگا، لیکن تصدیقی عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”

 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ کابینہ ذیلی کمیٹی کرناٹک کے ماڈل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ کی انتظامی اور قانونی ضروریات کے مطابق مناسب سفارشات پیش کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button