شدید بیماری پر چھٹی لینے والی سافٹ ویر انجینئر ملازمت سے برطرف، حیدرآباد میں خاتون کا احتجاج، واش روم جانے کیلئے بھی اجازت لینے کا الزام

حیدرآباد : حیدرآباد کے قطب اللہ پور حلقے میں واقع ٹیک مہندرا کے دفتر میں ایک خاتون سافٹ ویئر ملازمہ کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی رویہ اختیار کرنے اور بعد ازاں انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ شدید بیماری اور اپنی کمسن بیٹی کی خراب صحت کے باوجود کمپنی نے ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انہیں ذہنی طور پر ہراساں کیا اور بلاجواز ملازمت سے نکال دیا۔ اس معاملے پر انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروانے کے بعد جمعرات کو ٹیک مہندرا کے دفتر کے سامنے احتجاج بھی کیا۔
متاثرہ خاتون بھاونا کے مطابق وہ تقریباً ساڑھے چار ماہ قبل متعدد انٹرویوس کامیابی سے پاس کرنے کے بعد ٹیک مہندرا میں بطور سافٹ ویئر انجینئر شامل ہوئی تھیں۔ جون کے مہینے میں دفتر میں کام کے دوران اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔
بعد ازاں انہیں پہلے کمپنی کے میڈیکل سینٹر پھر ملا ریڈی اسپتال اور اس کے بعد شہر کے جینیا اسپتال منتقل کیا گیا۔ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ وہ اسپونڈیلائٹس (Spondylitis) کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انہیں پندرہ دن تک فزیوتھراپی اور آرام کی ضرورت ہے۔
اس دوران انہوں نے تمام طبی رپورٹس کمپنی کو بھی ارسال کیں۔بھاونا کا الزام ہے کہ طبی رپورٹس جمع کرانے کے باوجود کمپنی نے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کے بجائے مسلسل ای میلز بھیج کر دفتر حاضر ہونے کا دباؤ ڈالا۔
انہیں یہ بھی کہا گیا کہ اگر وہ واپس نہ آئیں تو انہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں ان کی بیٹی شدید بیمار ہوگئی تھی جس کے باعث انہیں تین دن کی چھٹی لے کر گھر جانا پڑا۔ اس دوران بھی کمپنی نے ان پر فوری لاگ اِن کرنے کا دباؤ ڈالا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر انہیں غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔
بعد ازاں انہیں ای میل کے ذریعے ملازمت سے برطرف کرنے کی اطلاع دے دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں لیبر کمشنر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا، لیکن اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔اپنی برطرفی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھاونا نے جمعرات کو ٹیک مہندرا کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرح کمپنی میں کئی اور ملازمین بھی مبینہ طور پر ایسے ہی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گی جب تک تمام متاثرین کو انصاف نہیں مل جاتا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بڑی محنت سے حاصل کی گئی ملازمت کو اچانک کس بنیاد پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
بھاونا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی میں ملازمین کو بنیادی آزادی بھی حاصل نہیں حتیٰ کہ واش روم جانے کے لیے بھی افسر سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کمپنی میں مبینہ ہراسانی اور ملازمین کے ساتھ رویے کے حوالے سے بھارت کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھی شکایت کی ہے۔



