جرائم و حادثات

حیدراباد میں چلتے آٹو میں لڑکی کے ساتھ نازیبا حرکت : نابالغ کو ایک ماہ سماجی خدمت کا حکم

 

حیدرآباد:  حیدراباد کے چادر گھاٹ بریج پر لڑکی کے ساتھ مبینہ نازیبا حرکت کے  واقعہ میں جووینائل جسٹس بورڈ نے نابالغ ملزم کے خلاف اصلاحی نوعیت کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے ایک ماہ تک سماجی خدمت انجام دینے کی ہدایت دی ہے۔

 

یہ واقعہ گزشتہ سال 7 نومبر کو پیش آیا تھا، جب ایک آٹو رکشہ میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا رویہ اختیار کیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا، جس پر چادر گھاٹ پولیس نے از خود مقدمہ درج کرتے ہوئے نابالغ لڑکے کو حراست میں لیا اور معاملہ جووینائل جسٹس بورڈ کے سپرد کیا۔

 

بورڈ نے کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد نابالغ کی عمر اور قانون میں موجود اصلاحی دفعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جیل بھیجنے کے بجائے سماجی خدمت کی سزا سنائی۔

 

بورڈ کے احکامات کے مطابق نابالغ کو مسلسل ایک ماہ تک روزانہ صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک جووینائل جسٹس بورڈ کے دفتر میں سماجی خدمت انجام دینی ہوگی۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق جووینائل جسٹس نظام کا مقصد کم عمر بچوں کو سزا دینا نہیں بلکہ ان کی اصلاح اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے، اسی لیے اس نوعیت کے معاملات میں اصلاحی اقدامات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button