تلنگانہ

مجھے کابینہ سے ہٹانے کی سازش کی گئی، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کمان کو بلیک میل کیا: کونڈا سریکھا

مجھے کابینہ سے ہٹانے کی سازش کی گئی، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کمان کو بلیک میل کیا: کونڈا سریکھا

 

حیدرآباد: تلنگانہ کی وزیر کونڈا سریکھا نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے انہیں کابینہ سے برطرف کرنے کے لیے کانگریس ہائی کمان کو بلیک میل کیا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے کونڈا سریکھا کو کابینہ سے برطرف کرنے کی سفارش کرتے ہوئے گورنر کو مکتوب روانہ کئے جانے کی اطلاع ہے۔ اس پس منظر میں کونڈا سریکھا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کئی اہم الزامات عائد کئے۔

 

انہوں نے کہا کہ ان کا موقف جانے بغیر ہی انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ’’پھانسی کی سزا پانے والے مجرم سے بھی آخری خواہش پوچھی جاتی ہے، لیکن مجھے بغیر کوئی وضاحت طلب کئے اور یہ بتائے بغیر کہ آخر میرا قصور کیا ہے، برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میں اس کی سخت مذمت کرتی ہوں۔‘‘

 

کونڈا سریکھا نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان انہیں وزارت سے ہٹانا نہیں چاہتی تھی اور وہ اس بات سے ’’سو فیصد واقف‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کمان کو بلیک میل کیا اور دھمکی دی کہ ’’کیا آپ انہیں عہدے سے ہٹائیں گے یا مجھ سے استعفیٰ دینے کو کہیں گے؟‘‘

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ سابق او ایس ڈی سمنت کے خلاف بھی سازش کی گئی۔ وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی، رکن پارلیمنٹ ویم نریندر ریڈی اور چیف منسٹر کے بھائی کونڈل ریڈی اور تروپتی ریڈی نے ان کے خلاف محاذ بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ سمنت کو ان کی اطلاع کے بغیر عہدے سے ہٹایا گیا اور پولیس پر دباؤ ڈال کر ان کے خاندان کو بھی پریشان کیا جا رہا ہے۔

 

کونڈا سریکھا نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کرنے والی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین ملو روی بھی ماضی میں کانگریس پر تنقید کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر روشیّا اور جے پال ریڈی نے بھی ماضی میں اندرا گاندھی کے خلاف سخت بیانات دیئے تھے۔

 

انہوں نے کہا کہ وزارت سے برطرف کئے جانے پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے۔ ’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی، اس لئے برطرفی کو توہین نہیں سمجھتی۔ ہم عوامی حمایت رکھنے والے قائدین ہیں اور عوام ہمارے ساتھ ہیں۔‘‘

 

کونڈا سریکھا نے وزراء اور ارکان اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا وہ واقعی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کے کام بھی نہیں ہو رہے ہیں اور کئی ارکان اسمبلی اس صورتحال سے پریشان ہیں کہ کام کروانے کے لیے کس کے پاس جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کئے جانے کے باعث عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو زمینی صورتحال کا سروے کروانا چاہئے۔ انہوں نے پارٹی کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اب بھی باہر نکلیں اور اپنی مشکلات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔

 

کونڈا سریکھا نے کہا کہ عوام کی خدمت اور اپنے علاقوں کی ترقی نہ کر پانے کا درد تمام عوامی نمائندوں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی برطرفی کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل نہیں کریں گی، بلکہ کانگریس پارٹی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتی ہے تو پارٹی کو کئی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ ’’ریونت ریڈی کا یکطرفہ طور پر کام کرنا درست نہیں ہے۔ اگر ایک انگلی میری طرف اٹھائی جائے گی تو چار انگلیاں ریونت ریڈی کی طرف بھی اٹھیں گی۔‘‘

 

کونڈا سریکھا نے کہا کہ انہوں نے فی الحال پلان بی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے اپنا کام جاری رکھیں گی اور کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دینے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button