کمسن لڑکے کو "پاکستانی” کہنے کا ویڈیو وائرل۔ حیدرآباد میں چونکا دینے والا واقعہ

حیدرآباد: شہر حیدرآباد کے ملکا جگیری پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع جنا پریہ لیک ویو اپارٹمنٹ میں پیش آئے ایک مبینہ ہراسانی کے واقعہ نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاندان کو بعض افراد کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ خاندان کے ایک کمسن لڑکے کو "پاکستانی” کہا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق کسی بات پر شروع ہونے والی بحث و تکرار کے دوران چند افراد خاندان کے افراد سے الجھ پڑے۔ ویڈیو میں ایک کم عمر لڑکا جذباتی انداز میں یہ سوال کرتا نظر آتا ہے کہ اسے پاکستانی کیوں کہا جا رہا ہے؟
وہ کہتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہے اور اس کے دادا ہندوستانی فوج میں صوبیدار کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس کے باوجود ویڈیو میں ایک شخص مبینہ طور پر لڑکے کو پاکستانی کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور اس سے سوال کرتا ہے کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے۔
اسی دوران بعض خواتین بھی خاندان کے افراد سے آدھار کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات طلب کرتی نظر آتی ہیں۔ ویڈیو میں یہ سوالات بھی کیے جاتے ہیں کہ آیا ان کا تعلق ماؤنواز تنظیموں سے تو نہیں ہے۔
لڑکے کے ساتھ موجود ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے خاندان کو صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاتون کے مطابق بعض افراد نے انہیں یہ کہتے ہوئے ہراساں کیا کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ یہاں کسی سازش کے تحت آئے ہیں۔
اس غیر متوقع رویے پر خاندان کے افراد حیرت اور خوف کا شکار دکھائی دیے۔الزام ہے کہ یہ تمام صورتحال پولیس کی موجودگی میں پیش آئی اور بعض افراد مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے رہے۔
واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے جن پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔متعدد سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی شہری کو اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر ہدف بنایا گیا ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
عوامی حلقوں نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔یہ ویڈیو کب کا ہے پتہ نہیں چل سکا لیکن سوشل میڈیا پر 18 جون کو تیزی کے ساتھ وائرل ہو گیا۔



