مضامین

اکثریت کیا خدا ہے؟ قرآن مجید میں اکثریت کی اندھی پیروی سے ممانعت

ڈاکٹر علیم خان فلکی

صدرسوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا،حیدرآباد ۔

9642571721

یہ مضمون ان لوگوں کےلئے ہے کہ صدیوں سے اپنے رسم و رواج میں، اندھے عقائد اور عبادات میں ، رہن سہن اور اتباع میں ’’ورنہ لوگ کیا کہیں گے‘‘، یہ تو ہمارے باپ دادا سے چلا آرہا ہے‘‘ کی حجّتیں پیش کرتے ہیں، انہی کے لئے ہے۔

 

قرآن مجید نے بار بار یہ حقیقت بیان کی ہے کہ حق کا معیار لوگوں کی تعداد نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت اور دلیل ہے۔ اسی لیے قرآن نے اکثریت کی اندھی تقلید اور بے دلیل پیروی سے خبردار کیا ہے۔

1۔ سورۃ الانعام (6:116) ۔ وان تطع اکثر من فی الارض یصلوک عن سبیل اللہ ۔ ان یتبعون الا اظن وان ھم الا یخرصون۔

 

"اگر آپ زمین میں بسنے والے اکثر لوگوں کی بات مانیں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ وہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔” یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اکثریت دلیل نہیں، بلکہ حق دلیل سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ آیت قرآن کے اس موضوع کی اساس ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اکثریت کی مذمت اس لیے نہیں کی کہ وہ اکثریت ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کی بنیاد ظن، جہالت اور بے دلیل رائے پر ہے۔لہٰذا قرآن کا اصول یہ نہیں کہ "اکثریت ہمیشہ غلط ہوتی ہے”، بلکہ یہ ہے کہ جس اکثریت کی بنیاد علم اور وحی کے بجائے گمان پر ہو، اس کی پیروی ممنوع ہے۔

 

2۔ سورۃ یوسف12:103 ۔وما اکثر الناس ولو حرصت بمئومنین”آپ خواہ کتنی ہی خواہش کریں، اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہوں گے

3۔ سورۃ الروم (30:6)«۔ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔۔”لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

4۔ سورۃ الأعراف (7:187)«۔ولکن اکثر الناس لا یعلمون ۔”لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

5۔ سورۃ سبأ (34:28)«۔ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔۔”لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

6۔ سورۃ غافر (40:57)«۔ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔۔”لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

7۔ سورۃ البقرۃ (2:243)«۔ولکن اکثر الناس لا یشکرون۔۔”لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

8۔ سورۃ یونس (10:60)«۔ولکن اکثر الناس لا یشکرون۔”لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

9۔ سورۃ المائدۃ (5:49)« ۔واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک۔ ۔۔اور ان سے بچیے کہ وہ آپ کو اللہ کے

نازل کردہ احکام کے کسی حصے سے نہ ہٹا دیں

10۔ سورۃ ص (38:24)«۔ْوقلیل ما ھم۔۔۔”اور ایسے لوگ بہت کم ہیں

یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حق پر ثابت قدم رہنے والے اکثر اوقات تعداد میں کم ہوتے ہیں۔

 

"اکثر الناس” اور "قلیل” کا تقابلی مطالعہ

قرآن مجید میں بار بار یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ دنیا میں اکثر لوگ حق کو قبول نہیں کرتے، اس لیے حق اور باطل کا فیصلہ لوگوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت سے ہوتا ہے۔

اول: "اکثر لوگ” کے متعلق قرآنی بیانات

1۔ اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے،۔ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے،۔ اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں۔ اکثر لوگ گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اکثر لوگ حق سے منہ موڑتے ہیں

 

دوم: "تھوڑے لوگ” کے متعلق قرآنی بیانات

1۔ شکر گزار بندے بہت کم ہیں ۔وقلیل من عبادی الشکور (سبأ:13

2۔ ایمان والے کم تھے ۔وما آمن معہ الا قلیل ہود:40

3۔ حق پر قائم رہنے والے کم ہوتے ہیں ۔و قلیل ماھمْ(ص:24

4۔ راتوں کو عبادت کرنے والے کم ہوتے ہیں۔کانو ا قلیلا من اللیل ما یھجعون(الذاریات:17

 

قرآن کا عظیم اصول

قرآن کبھی یہ نہیں کہتا کہ "چونکہ لوگ زیادہ ہیں، اس لیے وہ حق پر ہیں۔”

بلکہ قرآن یہ سکھاتا ہے کہ حق کو وحی سے پہچانو۔۔۔۔حق کو دلیل سے پہچانو۔۔۔۔۔حق کو علم سے پہچانو۔۔۔حق کو تقویٰ سے پہچانو۔

 

صرف اکثریت کی وجہ سے کسی بات کو صحیح نہ سمجھو۔اسی لیے انبیائ علیہم السلام اکثر اپنی قوم میں اقلیت میں تھے، لیکن حق انہی کے ساتھ تھا۔

پیغام یہی ہے کہ قرآن مجید کی روشنی میں یہ اصول قطعی ہے کہ اکثریت بذاتِ خود حق کی دلیل نہیں۔ اگر اکثریت وحی کے خلاف ہو تو اس کی پیروی ممنوع ہے، اور اگر حق اکثریت کے ساتھ ہو تو اس کی بنیاد بھی اکثریت نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت اور دلیل ہوگی۔

ایک نہایت دلچسپ قرآنی حقیقت

اگر آپ پورے قرآن کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ "اکثر الناس” کے ساتھ تقریباً ہمیشہ کوئی منفی وصف آیا ہے، جیسے:

لا یعلمون، لا یعملون، لا یومنون، لا یشکرون، کارھون الحق یتبعون الظن فاسقون۔

اور دوسری طرف "قلیل کے ساتھ اکثر مثبت اوصاف آئے ہیں:شاکر ۔مؤمن۔صالح۔قائم بالحق۔عابد۔

یہ قرآن کا ایک نہایت گہرا نفسیاتی اور تربیتی اسلوب ہے۔

 

حق کا معیار تعداد نہیں، دلیل ہے

انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ لوگ اکثر حق اور باطل کا فیصلہ دلیل سے نہیں بلکہ تعداد سے کرتے ہیں۔ اگر کسی نظریے کے ماننے والے زیادہ ہوں تو اسے صحیح سمجھ لیا جاتا ہے، اور اگر حق کے علمبردار کم ہوں تو ان کی بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔قرآن مجید اس ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ حق کا تعلق لوگوں کی کثرت یا قلت سے نہیں، بلکہ اللہ کی ہدایت، وحی اور برہان سے ہے۔

قرآن کی نگاہ میں دنیا کی اکثریت کسی نظریے کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں، اور نہ ہی اہلِ حق کا قلیل ہونا ان کے باطل ہونے کی علامت ہے۔ اسی لیے تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت کا آغاز اقلیت سے کیا، لیکن حق ہمیشہ انہی کے ساتھ تھا۔

 

حق کا معیار

قرآن نے مختلف مقامات پر حق کا معیار واضح کیا ہے۔وحی۔۔۔علم۔۔۔۔دلیل (برہان)۔۔۔۔۔عدل۔۔۔۔۔تقویٰ

ان میں سے کسی مقام پر بھی "اکثریت” کو حق کی دلیل قرار نہیں دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔قل ھاتو برہانکم ان کنتم صادقین۔ کہہ دیجیے! اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔”(البقرۃ:111

گویا قرآن تعداد نہیں بلکہ برہان طلب کرتا ہے۔

انبیائ کی تاریخ کیا بتاتی ہے؟

قرآن میں جن انبیائ کا ذکر آیا ہے، ان کی دعوت پر غور کیا جائے تو ایک مشترک حقیقت سامنے آتی ہے۔ان کے ساتھ ایمان لانے والے بہت کم تھے۔ وہ پوری قوم کے مقابلے میں تنہا کھڑے ہوئے۔ہمیشہ اُن کی قوم نے انہیں جھٹلا دیا۔اگر حق کا معیار اکثریت ہوتی تو تاریخ کا ہر نبی باطل قرار پاتا، کیونکہ ابتدا میں ان کے ساتھ اکثریت نہیں بلکہ اقلیت تھی۔قرآن کی دعوت یہی ہے کہ وہ قرآن انسان کو یہ تربیت دیتا ہے کہ وہ کسی نظریے کو صرف اس لیے قبول نہ کرے کہ لوگ اس پر چل رہے ہیں۔وہ پوچھتا ہے:

 

کیا اس کے پاس اللہ کی دلیل ہے؟کیا اس کی بنیاد علم پر ہے؟کیا وہ وحی کے مطابق ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو وہی حق ہے، خواہ دنیا میں اس کے ماننے والے ایک ہی کیوں نہ ہوں۔تاکہ یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آ جائے کہ قرآن انسان کو "دلیل کی پیروی” سکھاتا ہے، "اندھی اکثریت کی پیروی” نہیں۔

 

اکثر الناس” — قرآن میں اکثریت کا تجزیہ

قرآن مجید میں "اکثر” (اکثر)، "اکثر الناس” (اکثر لوگ) اور "اکثرھم” (ان میں سے اکثر) کی تعبیر تقریباً اسی (80) سے زائد مرتبہ آئی ہے۔ ان تمام مقامات کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن کا مقصد "اکثریت” کو بطورِ اصول رد کرنا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ محض اکثریت کسی نظریے کی صداقت کی دلیل نہیں بن سکتی۔ اس سے قرآن کا یہ اصول سامنے آتا ہے کہ حق کا تعلق دلیل سے ہے، تعداد سے نہیں۔

یہ آیات یہ آیت رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتی ہیں کہ دعوت کی کامیابی کا معیار لوگوں کی تعداد نہیں بلکہ حق کی ابلاغ ہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ ایمان ہمیشہ اکثریت کا راستہ نہیں رہا۔

انبیائے کرام ہمیشہ اقلیت میں کیوں رہے؟

قرآن مجید صرف نظری اصول بیان نہیں کرتا بلکہ انبیائے کرام کی تاریخ کے ذریعے ان اصولوں کی عملی تفسیر بھی پیش کرتا ہے۔ اگر قرآن کا یہ اصول ہے کہ حق کا معیار اکثریت نہیں بلکہ وحی ہے، تو اس کی سب سے روشن دلیل انبیائے کرام کی دعوت ہے۔

 

تاریخِ نبوت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز ایک ایسے معاشرے میں کیا جہاں باطل اکثریت کے ساتھ تھا اور حق ایک چھوٹی جماعت کی صورت میں سامنے آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی صداقت کا تعلق کبھی بھی تعداد سے نہیں رہا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں طویل مدت تک دعوت دی۔فلبث فیھم الف سنتہ الا خمسین عام العنکبوت ۔: 14

"وہ اپنی قوم میں نو سو پچاس برس رہے۔”اتنی طویل دعوت کے باوجود قرآن فرماتا ہے: وما آمن معہ الا قلیل د: 40)

"اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے بہت کم تھے۔”

یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ دعوت کی کامیابی کا معیار پیروکاروں کی تعداد نہیں بلکہ پیغام کی امانت داری ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری قوم، بادشاہ اور بت پرست مذہبی نظام کے مقابلے میں تنہا کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا۔

انہوں نے فرمایا۔ اننی برائ مما تعبدون۔الا الذی فطرنی الزخرف۔ : 26-27

جب پوری قوم ایک طرف تھی، تب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اکثریت کو حق کا معیار نہیں مانا۔

حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم میں تقریباً تنہا رہ گئے تھے۔قوم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بستی سے نکالنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ وہ پاکیزگی کی دعوت دیتے تھے۔یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات معاشرے کی اکثریت خود برائی کی محافظ بن جاتی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے فرعون کی حکومت، فوج، معیشت اور عوامی طاقت تھی۔ظاہری اعتبار سے اکثریت فرعون کے ساتھ تھی، لیکن حق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ فیصلہ طاقت اور تعداد سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت قبول کرنے والوں کی تعداد کم تھی۔قرآن ان کے مخلص ساتھیوں کو حواریون کہتا ہے۔من انصاری الا للہ ۔قال الحوریون نحن انصار اللہ ِ(آل عمران: 52

یہاں بھی حق ایک چھوٹے گروہ کے ساتھ تھا، نہ کہ مذہبی اکثریت کے ساتھ۔

 

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ

نبوت کے ابتدائی تیرہ برس مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔قریش کی اکثریت، قبائلی طاقت، اقتصادی قوت اور سماجی اثر و رسوخ سب مخالف تھے۔اگر حق کا معیار اکثریت ہوتی تو مکہ کے مشرکین حق پر ہوتے اور رسول اللہ ﷺ معاذ اللہ غلط ہوتے۔

 

لیکن قرآن نے رسول اللہ ﷺ کو یہی فرمایا۔وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ (الأنعام: )ّ16

غزو ہ بدر: قلت کی عظیم مثال۔غزو ہ بدر میں مسلمان تقریباً تین سو تیرہ تھے، جبکہ قریش کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔

قرآن نے اس موقع پر یہ اصول بیان فرمایا۔کم من فئتہ قلیلتہ غلبت فئتہ کثیرتہ باذن اللہ۔ البقرہ: 249

"کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئی ہیں۔”

یہ آیت اگرچہ طالوت کے واقعے کے ضمن میں ہے، لیکن بدر میں اس کا عملی مظہر سامنے آیا۔

ایک اہم تنبیہ

اس تاریخی حقیقت سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ ہر چھوٹی جماعت لازماً حق پر ہوتی ہے۔قرآن کا معیار نہ اکثریت ہے نہ اقلیت۔

قرآن کا معیار صرف یہ ہےکہ کیا یہ بات اللہ کی وحی کے مطابق ہے؟

کیا اس پر صحیح دلیل موجود ہے؟ کیا اس کی بنیاد علم اور عدل پر ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو وہ حق ہے، خواہ ماننے والے کم ہوں یا زیادہ۔

 

خلاصہ

تاریخِ نبوت اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ ہے کہ حق ہمیشہ دلیل سے پہچانا گیا۔انبیائے کرام نے کبھی اکثریت کو دلیل نہیں بنایا۔

باطل اکثر سماجی طاقت رکھتا تھا، لیکن حق اخلاقی اور الٰہی قوت رکھتا تھا۔آخرکار اللہ کی نصرت حق ہی کے ساتھ رہی۔اسی لیے ایک مسلمان کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ یہ دیکھے کہ "کتنے لوگ” کسی بات کو مانتے ہیں، بلکہ یہ دیکھے کہ "اللہ اور اس کے رسول نے کیا فرم

ایا ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button