امراوتی میں شرمناک سیکس ریاکٹ بے نقاب! 19 سالہ ملزم گرفتار، 180 لڑکیوں کے استحصال کا شرمناک انکشاف

مہاراشٹرا کے امراوتی ضلع کے اچل پور–پرتواڑہ جڑواں شہروں میں فحش ویڈیوز اور خواتین کے جنسی استحصال کا ایک بڑا اور سنسنی خیز اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے، جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم محمد ایاز کو گرفتار کر لیا ہے، جو محض 19 سال کا بتایا جا رہا ہے، جو گیارہویں کا طالب علم ہے جبکہ عدالت نے اسے 21 اپریل تک پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق سوشل میڈیا پر نوجوان لڑکیوں کی قابلِ اعتراض ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس گھناؤنے ریاکیٹ کا پردہ فاش ہوا۔ ملزم پر الزام ہے کہ وہ لڑکیوں کو دوستی اور محبت کے جال میں پھنسا کر ان کی ویڈیوز بناتا اور بعد میں انہیں بلیک میل کرکے جنسی استحصال کرتا تھا۔ ذرائع کے مطابق اب تک 150 سے 180 خواتین کے استحصال کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ 10 سے 15 متاثرین کی ویڈیوز Instagram اور Telegram پر وائرل ہو چکی ہیں۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر انل بونڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پیچھے ایک منظم گینگ سرگرم ہے۔ ان کے مطابق محمد ایاز اور محمد زویان سمیت دیگر افراد نے 180 سے زائد لڑکیوں کی تقریباً 350 فحش ویڈیوز تیار کیں اور انہیں بلیک میل کرکے جسم فروشی پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پر پروین تایدے نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ریاستی وزیر چندرشیکھر باونکولے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث افراد کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا، جبکہ دیویندر فڈنویس نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی جائزہ لیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ وشال آنند کے مطابق پولیس نے خود مدعی بن کر مقدمہ درج کیا اور تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین کی مدد کے لیے سادہ لباس میں خواتین پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور تمام متاثرہ لڑکیوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بدنامی کے خوف کے باعث اب تک کوئی باضابطہ شکایت سامنے نہیں آئی، تاہم متاثرہ خواتین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلا خوف و خطر آگے آکر شکایت درج کریں تاکہ اس منظم جرائم کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔



