سعودی عرب۔سکیورٹی، پرائیویسی اور کرپٹو گرافی میں مملکت دنیا میں سب سے آگے

ریاض ۔ کے این واصف
سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں ایک اور پیش رقت۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سعودی عرب، سکیورٹی، پرائیویسی اور کرپٹوگرافی (خفیہ یا اشاراتی عبارتوں کو تحریر میں لانے کا فن) میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ مملکت مصنوعی ذہانت میں خواتین کو با اختیار بنانے میں بھی سرِ فہرست ہے۔
یہ بات “اسٹینفورڈ یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فار ہیومن سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلیجینس” کی سالِ رواں کی “اے آئی انڈیکس” کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔عرب نیوز کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے مُوجِدوں اور اس موضوع پر لکھنے والوں میں سعودی عرب، خواتین کی نمائندگی کے لحاظ سے عالمی سطح پر بھی پہلے نمبر پر ہے۔ اس شعبے میں سعودی عرب میں خواتین کی شرح 32.3 فیصد ہے۔
آسٹریلیا میں یہ شرح 30.1 فیصد اور کینیڈا میں 29.6 فیصد ہے۔ دنیا میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں صنفی امتیاز کو مدِ نظر رکھا جائے تو سعودی عرب میں اس شرح کا بہتر ہونا خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کے ٹیلنٹ میں تیز ترین رفتار سے نشو و نما ہوئی ہے جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ سنہ 2019 اور سنہ 2025 کے درمیان یہ شرح 100 فیصد سے بھی زیادہ رہی۔



