مضامین

آہ جناب غلام یزدانی صاحب …

منظور احمد۔رکن جماعت اسلامی ہند 

 جنرل سیکریٹری ایم پی جے تلنگانہ

 

میں محترم جناب غلام یزدانی صاحب ایڈوکیٹ مرحوم کو 1980 کی دہائی سے جانتا ہوں۔ ان سے میری وابستگی اور قربت کا ایک طویل عرصہ رہا ہے۔ آج سے تقریباً بیس سال قبل پرانی حویلی میں ایم پی جے قانونی سیل کا افتتاح بھی انہی کے دست مبارک سے عمل میں آیا تھا۔

 

اس وقت ناچیز اس ادارے کا پی آر سیکریٹری تھا۔غلام یزدانی صاحب کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ شہر کی اہم علمی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کو مختلف اداروں کے مطالعاتی دوروں پر لے جایا کرتے تھے۔ ان ہی کے توسط سے مجھے بھی بعض مواقع پر شرکت کا شرف حاصل ہوا، جن میں انڈین اسکول آف بزنس (ISB)، جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون مرکز (SARC) اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی (HCU) میں قائم مختلف مراکز کا دورہ شامل ہے۔

 

1990 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران گن فاؤنڈری میں واقع ان کی رہائش گاہ پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا۔ اس افسوسناک واقعہ میں قریب کی مسجد کے مؤذن شہید ہوگئے تھے۔ اس سانحے کے بعد غلام یزدانی صاحب نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی، حالانکہ اس سے قبل وہ کانگریس کے اقلیتی سیل کے اہم ذمہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔اگرچہ وہ کسی جماعتی عہدے پر فائز نہیں تھے، تاہم جماعت اسلامی ہند سے انہیں خاص قلبی وابستگی اور محبت تھی۔

 

مسجد عالیہ میں عاشورہ کے موقع پر جماعت اسلامی ہند کا کل یومی پروگرام برسوں تک منعقد ہوتا رہا۔ اسی مسجد میں جمعہ سے قبل جماعت کے متعدد ذمہ داران اور مقررین خطابات کرتے رہے ہیں۔ 1980 کی دہائی میں محترم حافظ فریدالدین صاحب نے بھی طویل عرصے تک یہاں خطابات فرمائے۔مسجد عالیہ کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ شہر کی شاید پہلی مسجد ہے جہاں شادی کے بعد رخصتی کی تقریب کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ مسجد کی تعمیر و ترقی اور اس کے انتظامی امور میں بھی غلام یزدانی صاحب کی خصوصی نگرانی اور دلچسپی شامل رہی۔

 

مرحوم غلام یزدانی صاحب ایڈوکیٹ متعدد تعلیمی، سماجی اور فلاحی اداروں سے وابستہ تھے جن میں تربیت المعلمین، اردو آرٹس کالج حمایت نگر، مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، نلسار یونیورسٹی اور دیگر ادارے شامل ہیں۔اسی طرح وہ پبلک گارڈن واکرز ایسوسی ایشن سے بھی وابستہ تھے، جس کے زیر اہتمام ہر ماہ علمی و فکری لیکچرز کا انعقاد ہوتا تھا۔ مسجد عالیہ میں بھی ان کی سرپرستی میں مختلف علمی و دینی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں

 

جن میں اقبال شناسی کی نشستیں، تاریخِ اسلام کے موضوعات پر مذاکرے، دروسِ قرآن اور دیگر اصلاحی و فکری پروگرام شامل ہیں۔جناب غلام یزدانی صاحب ایڈوکیٹ مرحوم ایک باوقار، معتدل مزاج، تعلیم دوست اور سماجی شعور رکھنے والی شخصیت تھے۔ ان کی خدمات مختلف میدانوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کی رحلت علمی، سماجی اور ملی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

 

اللہ تعالٰی ‘ مرحوم کی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے ، مرحوم کی مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ، لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور ملت اسلامیہ کو انکا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین

 

متعلقہ خبریں

Back to top button