نیشنل

لوک سبھا حلقوں میں اضافہ اور خواتین تحفظات بل پارلیمنٹ میں پیش

آج پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جہاں خواتین ریزرویشن اور  لوک سبھا حلقوں کی نئی حلقہ بندی (ڈیلامیٹیشن) سے متعلق اہم بل پیش کیے گئے۔

 

لوک سبھا کا اجلاس صبح 11 بجے شروع ہونے کے بعد مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھاوال نے تین اہم بل ایوان میں پیش کیے، جن پر فوری طور پر بحث کا آغاز ہو گیا۔ ان بلوں میں خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن دینے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں حلقوں کی محی حلقہ بندی کے ذریعے نشستوں میں اضافہ اور از سر نو تقسیم شامل ہے۔

 

اہم آئینی ترمیمی بل کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کو موجودہ 550 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 تک کرنے اور 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر ڈی لمیٹیشن کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بل کے ذریعہ ڈی لمیٹیشن کمیشن کے قیام کی تجویز ہے، جبکہ ایک اور بل مرکزی زیر انتظام علاقوں میں حلقہ بندی کی راہ ہموار کرتا ہے، جسے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیش کیا۔

 

ان بلوں پر آج سے تین دن تک پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوگی، جس میں ہر ایوان میں تقریباً 18 گھنٹے تک ارکان اظہارِ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی آج شام لوک سبھا میں خطاب کریں گے۔

 

واضح رہے کہ ان میں سے ایک آئینی ترمیمی بل ہے، جس کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، یعنی کم از کم 360 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکمراں این ڈی اے اتحاد کے پاس 292 اراکین کی حمایت ہے، جبکہ مزید 68 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

 

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد “انڈیا” نے ڈی لمیٹیشن کی مخالفت کرتے ہوئے اس بل کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث آئینی ترمیمی بل کی منظوری پر غیر یقینی صورتحال اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button