خواتین ریزرویشن بل کا سچ

از: میر فاروق علی
ایک بل پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے اور ملک کے وزیراعظم اسے ہضم نہیں کرپاتے ہیں اور ان کا قوم سے خطاب بوکھلاہٹ اور مگرمچھ کے آنسو کے سوا کچھ نہیں۔
ان کا خیال تھا کہ یہ ایک ماسٹر اسٹروک اور منصوبہ بند حکمت عملی ہے لیکن یہ پارلیمنٹ میں ناکام ہوجاتی ہے۔ اپوزیشن نے مشترکہ طور پر لڑاکا موڈ میں انہیں مناسب جواب دیا۔ خواتین ریزرویشن بل کی اسکرپٹ ہما قریشی کی Netflix سیریز رانی کا ایک سین کے سوا کچھ نہیں۔ ایک اسکرپٹ جو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بی جے پی نے سوچا تھا کہ فلم رانی کی طرح وہ اپوزیشن پر دباؤ بناکر اس بل کے حق میں ووٹ دینے پر اسے مجبور کریں گے
لیکن پرینکا گاندھی اور راہول گاندھی نے اسے کامیابی سے نہ صرف ناکام بنادیا بلکہ حکومت کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔ یہ بل پہلے ہی شکست سے دوچار ہونا طے شدہ امر تھا۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کہ وہ اسے منظور نہیں کرواسکتے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نے اسے ایک سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کیا ۔ اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت اب وزیراعظم اور گودی میڈیا پوری اپوزیشن کو بدنام کرنے کے مشن پر لگ گئے ہیں۔
اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو اسے موجودہ 543 نشستوں میں سے 33 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ برسراقتدار بی جے پی دراصل ملک کی خواتین کو پارلیمنٹ کے موجودہ حجم یعنی 543 میں نمائندگی نہ دے کر ان کا مذاق اڑا رہی ہے۔ حکومت کی بد نیتی کو بے نقاب کرنے کے لیے اپوزیشن کو سراہا جانا چاہیے اور اس بل کے پیچھے اس کے سیاسی مقاصد کا پردہ فاش ہوگیا ہے ۔
ہمارے ملک کی خواتین سمجھدار ہیں اور وہ دیکھ رہی ہیں کہ این ڈی اے کے اس 12 سال کے دور میں انہیں کس طرح دبایا گیا اور دھوکہ دیا گیا۔ عصمت دری کے مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔ انہیں ضمانت مل جاتی ہے۔ قوم اور ملک کی خواتین ہاتھرس اور اناؤ کے عصمت دری کرنے والوں کو کبھی نہیں بھولیں گی اور معاف نہیں کریں گی۔ قوم کی خواتین کو پرجول ریوینا، اشوک کھرت، آسارام کے جنسی سکینڈلز کو یاد رکھنا چاہیے۔ انہیں ہمارے رہنماؤں کے ایپسٹین کنکشن پر سوال اٹھانا چاہئے۔
خواتین کی حفاظت سب سے پہلے ہے۔ خواتین ریزرویشن بل اقتدار پر قابض رہنے کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے سوا کچھ نہیں ہے۔



