امریکہ فائرنگ واقعہ پر وزیر اعظم نریندرمودی کا رد عمل

نئی دہلی: ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ ’وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر‘ کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حفاظت کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کی سخت مذمت
کی ہے۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں یہ جان کر اطمینان ہوا کہ صدر ٹرمپ، خاتون اول اور نائب صدر واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والے سیکورٹی واقعے کے بعد محفوظ ہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں اور اس کی واضح مذمت ہونی چاہیے۔رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی رات (امریکی وقت کے
مطابق) واشنگٹن کے معروف ہلٹن ہوٹل میں اس وقت افراتفری پھیل گئی جب ’وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر‘ کے دوران ہوٹل کی لابی میں گولیوں کی آواز سنائی دی۔ اس وقت صدر ٹرمپ تقریب میں خطاب کی تیاری کر رہے تھے۔ سیکرٹ سروس
کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مبینہ
حملہ آور کو تقریب گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل 13 جولائی 2024 کو ریاست پنسلوانیا کے علاقے بٹلر میں ایک انتخابی ریلی
کے دوران بھی ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔ سیکرٹ سروس کے مطابق اس حملے میں ایک شخص نے بلند مقام سے متعدد گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ٹرمپ زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔



