نیشنل

غیر قانونی پولیس حراست پر الہ آباد ہائی کورٹ برہم، متاثرہ شخص کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک شخص کو8 دن تک غیر قانونی طور پر پولیس حراست میں رکھنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ شخص کو چھ ہفتوں کے اندر 2 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کئے جائیں۔

 

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ یہ رقم محکمہ جاتی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (بارا) سے وصول کی جائے۔

 

جسٹس سدھارتھ اور جسٹس ونئے کمار دویدی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پریاگ راج کے رہنے والے منصور احمد کی جانب سے دائر حبس بیجا عرضی کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کمشنر، پریاگ راج کو 14 ستمبر تک عدالتی حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

 

عدالت نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ تاریخ تک رپورٹ پیش نہ کی گئی تو پولیس کمشنر کو شخصی طور پر عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔

 

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ’’پریاگ راج کمشنریٹ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پولیس کمشنر کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں جن کا بے دریغ غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘ عدالت نے کہا کہ اس سے قبل غازی آباد کمشنریٹ کے ایک معاملے میں بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی۔

 

عرضی کے مطابق پولیس اسٹیشن انچارج کرشن موہن سنگھ، سب انسپکٹر امیش سنگھ اور دو کانسٹیبلوں نے مبینہ طور پر منصور احمد کے گھر میں زبردستی داخل ہوکر انہیں حراست میں لے لیا۔ جب ان کی اہلیہ نے گرفتاری کی وجہ پوچھی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں دھکا دے کر ایک طرف کر دیا۔

 

اسی روز منصور احمد کے بیٹے شاہ رخ خان نے اپنے وکیل کے ذریعہ اتر پردیش کے چیف منسٹر پورٹل پر پولیس ملازمین کے خلاف شکایت درج کرائی۔

 

عرضی میں کہا گیا کہ جب گھر والے پولیس اسٹیشن پہنچے تو منصور احمد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کی حالت انتہائی خراب تھی۔ خاندان نے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اور پولیس کمشنر سے بھی رجوع کیا، تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کے بعد 23 مارچ کو ہائی کورٹ میں حبس بیجا عرضی دائر کی گئی۔

 

پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ امن و امان میں خلل کے خدشہ کے تحت حراست میں لئے گئے افراد اگر شخصی مچلکہ جمع نہ کرائیں تو انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ منصور احمد کی جانب سے مچلکہ جمع کرانے سے انکار کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

 

اس بنیاد پر عدالت نے پولیس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متاثرہ شخص کے حق میں معاوضے اور ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button