امریکہ-ایران تصادم شدت اختیار کر گیا – ایران پر حملہ کے بعد آبنائے ہرمز بند، کویت اور بحرین میں فوجی اڈے نشانے پر

تہران/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کی دھمکی کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے مختلف اہداف پر حملے کئے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں صدر ٹرمپ کی ہدایات پر "دفاعِ نفس” کے تحت انجام دی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے جنوبی علاقوں میں شدید دھماکے سنے گئے، جبکہ میناب، بندر عباس، سیریک اور تہران کے اطراف بعض مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مجوزہ معاہدے پر دستخط نہیں کرتا تو حملے کئے جائیں گے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں 49 ٹوماہاک میزائل استعمال کئے گئے اور ایران کے ساحل سے تقریباً 64 کلومیٹر دور واقع بعض اہداف کو تباہ کیا گیا۔ لڑاکا طیاروں نے بھی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے خلیج فارس کے قریب ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کا سخت جواب دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دو آئل ٹینکروں پر حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں امریکی جنگی جہازوں کی مدد حاصل تھی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس اور کویت کے علی السالم ایئربیس پر ڈرون حملے کئے گئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر کے اس بیان کو بھی ایران نے مسترد کر دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ بندی کے لیے ایرانی نمائندے رابطہ کر رہے ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں مزید کشیدگی اور غیر یقینی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔



