الہ آباد ہائی کورٹ کا منقسم فیصلہ – مسلمانوں پر ہورہے تشدد پر انسانی حقوق کمیشن کے کردار پر ججس کے درمیان اختلاف

لکھنو – 29 اپریل/ اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ڈویژن بنچ کے دو جج صاحبان نے انسانی حقوق کمیشنوں کے کردار پر اختلاف کرتے ہوئے الگ الگ عبوری احکامات جاری کئے۔
جسٹس اتل سری دھرن نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ ملک بھر کے انسانی حقوق کمیشن مسلم افراد پر حملوں اور بعض معاملات میں ہجومی تشدد (لنچنگ) جیسے واقعات پر از خود نوٹس لینے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم جسٹس وویک سرن نے ان ریمارکس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے عمومی تبصروں سے اتفاق نہیں کرتے۔
عدالت مدرسہ اساتذہ کی تنظیم "ٹیچرز ایسوسی ایشن مدارس عربیہ” کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کی جانب سے مدارس سے متعلق جاری کردہ بعض احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس سری دھرن نے این ایچ آر سی کے اس اختیار پر سوال اٹھایا کہ وہ مدارس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن اپنے دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ معاملات جنہیں آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہائی کورٹ میں اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، “جہاں ایک طرف مسلم برادری کے افراد پر حملے اور بعض مواقع پر لنچنگ جیسے واقعات پیش آتے ہیں اور کئی بار ملزمان کے خلاف مقدمات درج نہیں کئے جاتے یا مناسب تفتیش نہیں ہوتی، وہیں انسانی حقوق کمیشن ایسے معاملات میں الجھے نظر آتے ہیں جو بظاہر ان کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔”
جسٹس سری دھرن نے مزید کہا کہ عدالت کے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا جہاں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے ان حالات میں از خود نوٹس لیا ہو جب خودساختہ گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر عام شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں۔
انہوں نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان تعلقات پر ہراسانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات عوامی مقامات پر مختلف مذہب کے افراد کے ساتھ بیٹھ کر چائے یا کافی پینا بھی خوف کا باعث بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں عدالت کے سامنے کوئی مثال پیش نہیں کی گئی کہ ریاستی یا قومی انسانی حقوق کمیشن نے از خود نوٹس لیا ہو، جبکہ اس کے برعکس وہ ایسے معاملات سننے میں مصروف ہیں جو ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
دوسری جانب جسٹس وویک سرن نے جسٹس سری دھرن کے مشاہدات سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدہ حکم جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیراگراف 6 اور 7 میں بیان کئے گئے نکات سے وہ متفق نہیں ہیں، اس لئے وہ اپنے ساتھی جج کے حکم سے اختلاف کرتے ہیں۔
جسٹس سرن نے مزید کہا کہ اگر مقدمے کے اصل نکات یا این ایچ آر سی کے کردار سے متعلق کوئی حکم جاری کرنا تھا تو تمام فریقین کو سننا ضروری تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فریقین کی غیر موجودگی میں اس طرح کے منفی مشاہدات مناسب نہیں تھے۔



