جنرل نیوز

جانوروں کو فروخت کرنے والوں کو ہی صحت مند جانور فروخت کرنے کا پابند بنایا جائے -گاورکھشکوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے

عید الضحیٰ کے موقع پر جانوروں کو لانے اور لے جانے والوں کا تحفظ پولیس کی ذمہ داری - جناب جلال الدین قریشی کا بیان

الاحسا الحفوف ( سعودی عرب) 9- مئی( ای میل -اردو لیکس )بانی وصدر حیدرآباد ویلفیر اسوسی ایشن سعودی عرب جناب محمد جلال الدین قریشی حسامی نے عید الاضحی کے موقع پر ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لیےبنائے جانے والے خصوصی چک پوسٹوں کے قیام سے متعلق کمشنر پولیس حیدرآباد کے اعلان پر کہا کہ ہر سال عید الضحی کے موقع پر جانوروں کو روکنے کے واقعات پیش آتے ہی ہیں

 

اس سلسلے میں ہر بار حکومت کو توجہ دلانا بالخصوص محکمہ پولیس کو توجہ دلانا ضروری ہو گیا ہے جناب جلال الدین قریشی نے مزید کہا کہ عید الضحی کی آمد کو اب ایک مہینے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے لیکن اشرار کی سرگرمیوں پر روک لگانے یا گاؤں رکھشک کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کے ساتھ کیا کاروائی کی جائے گی اس سے متعلق وضاحت نہ ہونے پرقریش برادری کافی فکر مند ہے

 

انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں جانور فروخت ہو رہے ہیں ان مقامات پر پولیس خود چھاپے مارے اور یہ پتہ چلا ۓکہ یہ جانور فروخت کے قابل ہیں یا نہیں ہیں اور اسی مقام پر ہی ڈاکٹر سے ہر جانور کا ایک سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جائے تو پھر جانوروں کو خریدنے والوں کے لیے کوئی مشکل مسئلہ نہیں رہے گا حیرت اس بات کی ہے کہ جو لوگ جانور فروخت کرتے ہیں ان سے کوئی پوچھ تاچ نہیں ہوتی لیکن جو خریدتے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ جانور صحت مند نہیں ہیں

 

ان کو نہ کاٹا جائے آخر یہ کس طرح کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ جانوروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لانے اور لے جانے والوں کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ کمشنر پولیس کا یہ کہنا کہ گاؤ رکھشک قانونی عمل کا احترام کریں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاگاؤ رکھشک پولیس سے بالاتر ہیں؟ اور جب پولیس ہے تو پھر گاؤ رکھشکوں کی کیا ضرورت۔؟ ہےپولیس کو چاہیے کہ گاؤ رکھشکوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے جناب جلال الدین قریشی نے سوال کیا کہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانوروں کو منتقل کرنے کے دوران

 

اگر گاؤ رکھشک کے نام پر کوئی غنڈہ گردی کرتا ہے یا پھر اور کوئی دوسرے غنڈہ گردی کرتے ہیں اور جانور کو منتقل کرنے والوں پر حملہ کرتے ہیں تو پھر کیا کسی کو اپنے دفاع کا بھی حق نہیں ہے ایک طرف تو جانور لانے والوں پر جان لیوا حملے ہوں گے اور جب وہ شکایت کرنے جائیں تو کس نے حملہ کیا ہے پوچھنے کے بجائے پولیس، شکایت کرنے والے کے خلاف ہی مقدمہ درج کر دیتی ہے یا پھر نہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے عوام بالخصوص قریش برادری نے بھی کانگریس پارٹی پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اقتدار پر لایا تھا

 

لیکن جب سے کانگریس جماعت تلنگانہ میں برسر اقتدار آئی ہے ،عید الضحی کے موقع پر جانوروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لانے اور لے جانے والوں پر نہ صرف حملے ہو رہے ہیں بلکہ گاڑیوں سے جانوروں کو اتار کر بھگا دیا جاتا ہے اس طرح سے قریش برادری کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے گاؤ رکھشک کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والے، جانوروں کو منتقل کرنے والی گاڑیوں کو روک کر جبری طور پر پیسے وصول کرتے ہیں ڈر اتے ہیں دھمکاتے ہیں اور ان کے پیسے و سیل فون بھی چھین لیے جاتے ہیں لیکن پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی ان سب باتوں کی اطلاع پولیس کو اور خفیہ پولیس کو قابل از وقت ہونی چاہیے

 

سال گزشتہ جن غیر سماجی عناصر و اشرارنے گاورکھشک کے نام پر گنڈہ گردی کی ہے، کمشنر پولیس کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کے نام اور سال بھر ان کی کیا حرکات و سکنات ہوتی ہیں اور یہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں یہ ساری تفصیل سے میڈیا کو آگاہ کریں سال گزشتہ جن جن مقامات پر جانوروں کو روکا گیا ہے یہ تمام باتیں پولیس کے علم میں موجود ہیں اور اب ہونا یہ چاہیے کہ کسی بھی مقام پر کوئی بھی گاڑی کو ہراساں و پریشان نہ کیا جائے اور ایسے پولیس ملازمین و عہدہ دارجو گاؤ رکھشک کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا ساز باز کئےہوئے ہیں ان پر بھی کڑی نظر رکھی جائے تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں گاو رکھشوں کے ذریعہ سے انجام نہ دے سکیں

 

جناب جلال قریشی نے اخر میں ایسے افراد قریش برادری سے تعلق نہیں رکھتے لیکن صرف عید الضحی کے موقع پر جانوروں کی خرید و فروخت انجام دیتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ قریش برادری کے ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے ایک مضبوط لاہ عمل بنائیں اور متحدہ طور پر کمشنر پولیس اور ڈائریکٹر جنرل پولیس کے علاوہ راست طور پر چیف منسٹر سے نمائندگی کریں اور غیر فریش برادری سے یہ بھی اپیل ہے کہ وہ جانوروں کو لانے کے بعد سے مناسب داموں پر فروخت کریں من مانی اور بے تحاشہ قیمتوں پر کاروبار کرتے ہوئے غیر ضروری طور پر مارکیٹ کو خراب نہ کریں

متعلقہ خبریں

Back to top button