” گھٹنوں کی تبدیلی” کے لئے روبوٹک سرجری سے مریضوں کو نئی زندگی جدید ٹیکنالوجی سے کم درد، جلد صحتیابی اور طویل مدتی فائدے ۔ ڈاکٹر سنیل کی پریس کانفرنس

عادل آباد۔21/مئی (اردو لیکس)
ماضی میں گھٹنوں کی تبدیلی (نی ریپلیسمنٹ) سرجری کو لے کر عوام میں کئی طرح کے خدشات اور غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں، لیکن جدید طبی ٹیکنالوجی خصوصاً ’’روبوٹک نی ریپلیسمنٹ سرجری‘‘ نے اس علاج کو مزید محفوظ، کامیاب اور دیرپا بنا دیا ہے۔ یہ بات سینئر آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر سنیل، سوماجی گوڑہ یشودہ ہاسپٹل حیدرآباد نے عادل آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر سنیل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 30 لاکھ گھٹنوں کی تبدیلی کی سرجریز کامیابی کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں، جن کے بعد مریض دوبارہ تقریباً نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھٹنوں کی شدید تکلیف کے باعث مسلسل درد کش ادویات استعمال کرنے سے گردوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، جبکہ بروقت سرجری سے نہ صرف درد سے نجات ملتی ہے بلکہ مریض اپنی روزمرہ زندگی خود مختاری کے ساتھ گزار سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وقت پر سرجری نہ کرائی جائے تو بعض مریض بستر تک محدود ہو جاتے ہیں اور بعد میں جسمانی یا طبی کمزوری کی وجہ سے آپریشن ممکن نہیں رہتا۔
ڈاکٹر سنیل کے مطابق جدید روبوٹک سرجری روایتی سرجری کے مقابلے میں زیادہ درست اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ اس طریقہ کار میں گھٹنے کی ساخت کو انتہائی باریکی سے درست زاویے میں فٹ کیا جاتا ہے، جس سے مصنوعی گھٹنے کی عمر 30 سے 35 سال تک بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس سرجری میں زخم چھوٹا ہونے کی وجہ سے درد کم رہتا ہے اور مریض آپریشن کے صرف 4 گھنٹوں بعد چلنا شروع کر سکتا ہے، جبکہ 2 تا 3 دن میں اسپتال سے ڈسچارج بھی ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فزیوتھراپی کے دوران شدید درد ہونے کا خوف بھی بے بنیاد ہے، کیونکہ روبوٹک سرجری کے بعد گھٹنے کی حرکت بہتر رہتی ہے اور بحالی کا عمل نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ مریض دوبارہ نیچے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور روزمرہ کے کام انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرس کے مطابق اگرچہ روبوٹک سرجری پر کچھ اضافی خرچ آتا ہے، لیکن یہ طویل مدت میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے دوبارہ سرجری (ریویژن سرجری) کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جس پر بعد میں لاکھوں روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ہیملتا اور سری نارائنا چترالا نے بھی اپنے تجربات بیان کیے۔ ڈاکٹر ہیملتا نے بتایا کہ وہ سرجری کے صرف 4 گھنٹوں بعد چلنے لگیں، تین دن میں گھر واپس چلی گئیں اور ایک ہفتہ میں واکر بھی ہٹا دیا۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دوبارہ پرانی ہیملتا بن گئی ہوں‘‘۔
ماہرین کے مطابق جدید روبوٹک نی ریپلیسمنٹ سرجری مستقبل میں گھٹنوں کے علاج میں ایک مؤثر اور انقلابی پیش رفت ثابت ہو رہی ہے۔



