نیشنل

بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کا مشورہ۔ خریدی بند کرنے پر فروخت کنندگان کو بنگال جیسی صورتحال کا سامنا

حیدرآباد: مسلمان اگر عید الاضحیٰ کے موقع پر بڑے جانور کی قربانی بند کر دیں تو ایسی صورت میں بڑے جانور فروخت کرنے والوں کی حالت کیا ہوگی اس کا اندازہ بنگال کے مویشی بازاروں کو دیکھتے ہوئے لگایا جا سکتا ہے۔ تلنگانہ خاص طورپر شہر حیدرآباد کے علاوہ اطراف و اکناف کے مسلمان بھی اگر جاریہ سال عید کے موقع پر بڑے جانور کی قربانی نہ کرنے ک ااعلان کرتے ہیں تو ایسی صورت میں جانور فروخت کرنے والوں کے کاروبار شدید متاثر ہوں گے

 

اور گاو کشی کے نام پر نشانہ بنانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ کسان جو اپنے جانور بازاروں میں فروخت کرتے ہیں در اصل عید اور عام دنوں میں اس کاروبار سے بھاری فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ خطیب شاہی مسند باغ عامہ مولانا حافظ احسن بن محم عبدلرحمان الحموی نے بڑے جانور کی قربانی کے سلسلہ میں اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قربانی کے لئے متعدد جانوروں کی قربانی کا اختیار دیا دیا ہے

 

جن میں دنبہ بکرا بھیڑ بکری کے علاوہ دیگر شامل ہیں اسی طرح بڑے جانور کی قربانی کی بھی گنجائش فراہم کی گئی ہے جن میں گائے، بھینس، بیل وغیرہ شامل ہیں لیکن اگر ان جانوروں کو ذبح کرنے سے دیگر ابنائے وطن کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں تو ایسی صورت میں ان بڑے جانوروں کی قربانی سے مسلمانوں کو گریز کرنا چاہئے بلکہ کو حکومت کو چاہئے کہ وہ گائے کی قربانی سے روکنے لئے قومی سطح پر اقدامات کرتے ہوئے گائے کو قومی جانور قرار دے

 

تاکہ گائے کے تحفظ کو یقینی بنایا کے جاسکے۔ مولانا احسن بن عبد الرحمن الحمومی نے بتایا کہ ہندستان میں گائے کے نام پر جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو حفظ ما تقدم کے تحت ان قربانیوں سے گریز کرنا چاہئے جو کہ ان کے لئے خطرہ اور معاشرہ میں فساد برپا کرنے کا باعث بن رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے بازاروں سے جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے مسلمانوں کو بھی بڑے جانور کی خریدی کے سلسلہ میں از سر نوغور کرنا چاہئے

 

تا کہ حکومت کو بھی صورتحال کا اندازہ ہو سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالی قربانی کا گوشت یا خون کچھ نہیں پہنچتا لیکن اللہ کی راہ میں دی جانے والی قربانی کی نیت اللہ کے پاس شرف قبولیت رکھتی ہے اسی لئے قربا نی لئے قربانی کے عمل میں دکھاوے سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ کی رضا کی خاطر سنت ابراہیمی پر عمل کے لئے قربانی کا فریضہ ادا کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔

 

خطیب شاہی مسجد باغ عامہ نے ملک کی موجودہ صورتحال میں گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے فساد اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کے انسداد کے لئے حکومت کو چاہئے کہ جو طبقات گائے کے ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کے عقائد کا

 

احترام کرتے ہوئے گائے کی عزت و تکریم میں اضافہ  کے احکامات جاری کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button