ووٹر لسٹ معاملہ پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، شفاف انتخابات کیلئے ایس آئی آر ضروری

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں اور ایس آئی آر کے معاملہ میں اس کے اختیارات قانونی و آئینی طور پر درست ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے بدھ کو اس معاملہ میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی نہ تو قوانین کے خلاف ہے اور نہ ہی آئینی دفعات سے متصادم۔
یہ فیصلہ ان متعدد درخواستوں پر سنایا گیا جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ایس آئی آر شروع کرنے کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس سال کے اوائل میں تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درست اور جامع ووٹر لسٹ کی تیاری کیلئے ایس آئی آر ایک اہم قدم ہے۔ عدالت کے مطابق یہ عمل انتخابی نظام میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے گا اور آئینی اقدار کو نئی تقویت فراہم کرے گا۔
اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی جامع نظرثانی مہم کو بڑی قانونی تقویت مل گئی ہے۔




