6 افراد کے قتل کا عمر قید مجرم دلہا بنا – پولیس پہرے میں ہوا نکاح ؛ 10 گھنٹے بعد دوبارہ جیل منتقل
میرٹھ: دہلی کے مشہور مسلم تیاگی خاندان قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ملزم واجد کو پیر کے روز 10 گھنٹوں کی پیرول دی گئی، جس کے بعد سخت پولیس سکیورٹی کے درمیان اسے میرٹھ ضلع کے دورالا علاقہ میں واقع اس کے آبائی گاؤں لایا گیا جہاں اس نے طے شدہ رشتہ دار لڑکی سے نکاح کیا۔ نکاح کی رسم مکمل ہونے کے فوراً بعد دہلی پولیس اسے واپس تہاڑ جیل لے گئی۔ یہ نکاح اب پورے علاقہ میں موضوع بحث بن گیا ہے
تفصیٖلات کے مطابق تقریباً دس سال قبل دہلی کے مشہور مسلم تیاگی خاندان قتل کیس نے دہلی اور مغربی اترپردیش کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس معاملہ میں واجد سمیت کئی افراد پر ایک ہی خاندان کے 6 افراد کے قتل کا الزام ثابت ہوا تھا، جس کے بعد عدالت نے واجد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تب سے وہ تہاڑ جیل میں بند ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول خاندان دہلی میں فرنیچر کے کاروبار سے وابستہ تھا۔ الزام ہے کہ واجد اور اس کے ساتھیوں نے تاجر اور اس کے دو بیٹوں کو قتل کرکے نعشوں کو دہلی کے ایک فلیٹ میں گڑھا کھود کر دفن کردیا تھا۔ بعد ازاں تاجر کی بیوی اور دو بیٹیوں کو مظفرنگر کی طرف لے جاکر قتل کیا گیا اور ان کی نعشیں میرٹھ کے دورالا علاقہ میں کالی ندی کے کنارے دفن کردی گئی تھیں۔
واقعہ کے تقریباً ایک ہفتہ بعد دہلی پولیس نے اس سنسنی خیز قتل کیس کا پردہ فاش کیا تھا۔ پولیس نے ملزمین کی نشاندہی پر دہلی سے تین اور دورالا کی کالی ندی سے تین نعشیں برآمد کی تھیں۔
پیرول ملنے کے بعد دہلی پولیس واجد کو میرٹھ لے کر پہنچی۔ پہلے اسے دورالا پولیس اسٹیشن لایا گیا جہاں ضروری کارروائی مکمل کی گئی۔ بعد ازاں پولیس اسے سمولی اختیار پور گاوں لے گئی جہاں جانی علاقہ کے پاوٹی افضل پور کے رہنے والے نسیم احمد انصاری کی دختر یاسمین کے ساتھ اس کا نکاح کرایا گیا۔
نکاح کے دوران سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ دہلی پولیس کے ساتھ مقامی دورالا پولیس بھی پوری وقت تعینات رہی تاکہ کسی قسم کی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔
دورالا کے سرکل آفیسر پرکاش چند اگروال نے بتایا کہ عدالت سے حاصل شدہ پیرول کی بنیاد پر دہلی پولیس قیدی کو میرٹھ لائی تھی اور مقررہ وقت کے اندر نکاح کی رسم مکمل ہونے کے بعد اسے واپس دہلی کے تہاڑ جیل لے جایا گیا۔




