شہری خواتین میں موٹاپا زیادہ ۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے میں انکشاف

نئی دہلی: نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے نئے اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق ملک میں جہاں بالغ افراد میں موٹاپا اور ہائی بلڈ شوگر لیول میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے تو 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں ڈائریا کے معاملے میں تھوڑی کمی درج کی گئی ہے۔
ویکسینیشن کوریج میں بہتری اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی کے باعث بچوں کی صحت میں بہتری آئی ہے۔سروے کے نتائج ملک کے بالغ افراد میں موٹاپے اور بلڈ شوگر کے بڑھتے معاملے کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو بتاتا ہے کہ ملک میں طرز زندگی سے متعلق بیماریوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 24-2023 میں 15 سے 49 سال کی 30.7 فیصد خواتین زیادہ وزن والی یا موٹی تھیں۔
اس میں شہری علاقوں میں 42.8 فیصد خواتین زیادہ وزن کی رہیں تو دیہی علاقوں میں یہ شرح 25.5 فیصد ہی ہے۔اسی طرح سے شہری علاقوں میں خواتین میں موٹاپے کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سروے (این ایف ایچ ایس-5) میں یہ اعداد و شمار 24 فیصد تھا یہ سروے 21-2019 میں کروایا گیا تھا۔ اسی عمر کے گروپ میں زیادہ وزن والے یا موٹے پائے گئے مردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی یہ تعداد 27.3 فیصد ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ سروے میں یہ تناسب 22.9 فیصد ہی تھا۔
این ایف ایچ ایس-6 کے لیے پورے ملک میں 7.1 لاکھ سے زیادہ خواتین اور ایک لاکھ سے زائد مردوں کو شامل کیا گیا۔موٹاپا ہی نہیں بلڈ شوگر کے معاملات بھی تشویشناک حد تک سامنے آ رہے ہیں۔ ہائی بلڈ شوگر لیول میں بھی کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں ہائی یا بہت زیاداہ بلڈ شوگر لیول والی یا بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے دوا لینے والی خوتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ این ایف ایچ ایس-5 کے سروے میں یہ لیول 13.5 فیصد تھا تو این ایف ایچ ایس-6 میں یہ بڑھ کر 17.8 فیصد ہو گیا۔
دیہی علاقوں میں یہ شرح 16.2 فیصد ہے تو شہری علاقوں میں یہ 21.9 فیصد ہے۔اسی معاملے میں مردوں میں یہ شرح 20.9 فیصد رہی۔ شہری علاقوں میں 23.9 فیصد ہے تو دیہی علاقوں میں 19.7 فیصد ہے۔ بلڈ شوگر لیول (141 سے 160 ایم جی/ڈی ایل کے درمیان) خواتین میں 7.5 فیصد معاملے ہیں تو 160 سے اوپر کے معاملے میں یہ تعدد 9.1 فیصد ہے۔ جبکہ مردوں میں (141 سے 160 ایم جی/ڈی ایل کے درمیان) 8.8 فیصد ہے تو 160 یا اس اسے زائد معاملوں میں 10.9 فیصد ہے۔
15 سے 49 سال کی خواتین میں زیادہ وزن یا موٹاپے کا سب سے بڑا مسئلہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ سب سے زیادہ مسئلہ پڈوچیری میں ہے کیونکہ یہاں شرح 46.3 فیصد درج کی گئی اس کے بعد چنڈی گڑھ میں 44 فیصد، دہلی میں 41.4 فیصد، پنجاب میں 40.8 فیصد اور تمل ناڈو میں 40.5 فیصد رہی۔ اس معاملے میں بہار، چھتیس گڑھ اور آسام جیسی ریاستوں میں خواتین میں موٹاپے کی شرح کافی کم درج کی گئی ہے
جبکہ اسی طبقے میں مردوں کے معاملے میں انڈمان اور نکوبار جزائر میں زیادہ وزن یا موٹاپے کا سب سے زیادہ پھیلاؤ تقریباً 88 فیصد درج کیا گیا، پھر پنجاب، کیرلم، تمل ناڈو، دہلی اور گوا کا نمبر ہے۔ بالغ افراد میں ہائپر ٹینشن کی بات کریں تو خواتین کے مقابلے میں مردوں میں یہ مسئلہ کہیں زیادہ ہے۔ مردوں میں ’سسٹولک 159-140 ایم ایم آف ایچ جی یا ڈائسٹولک 99-90 ایم ایم آف ایچ جی‘ 22.1 فیصد معاملے درج کیے گئے تو خواتین میں یہ صورتحال 19.4 فیصد ہے۔
انٹرنیٹ کے استعمال کے معاملے میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔ این ایف ایچ ایس-5 سروے میں جہاں انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد 52.9 فیصد تھی وہ این ایف ایچ ایس-6 میں بڑھ کر 73.4 فیصد ہو گئی۔ اس میں دیہی علاقوں (68.7 فیصد) کے مقابلے میں شہری علاقوں (82.3 فیصد) میں تعداد کہیں زیادہ رہی۔
مردوں میں 80 فیصد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں 84 فیصد تو دیہی علاقوں میں 78 فیصد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔



