مسلم نوجوان سے محبت کی شادی – والد نے زندہ بیٹی کی علامتی ارتھی نکالی
بہار کے ضلع کٹیہار میں ایک ہندو لڑکی کے مسلم نوجوان کے ساتھ گھر سے چلے جانے کے بعد خاندان میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ پولیس کی جانب سے لڑکی کو تلاش کرکے واپس لانے اور عدالت میں پیش کرنے کے بعد لڑکی نے اپنے والدین کو پہچاننے سے انکار کر دیا، جس پر والد نے بیٹی کو اپنے لیے "مردہ” قرار دیتے ہوئے اس کا علامتی ارتھی نکالی اور آخری رسومات ادا کر دیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک سال قبل دسویں جماعت کی کوچنگ کے دوران لڑکی کی ملاقات اپنے ہی گاؤں کے ایک مسلم نوجوان سے ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان دوستی محبت میں بدل گئی اور وقت کے ساتھ رابطے بڑھتے گئے۔
12 مئی کو لڑکی کوچنگ جانے کے بہانہ سے گھر سے نکلی لیکن واپس نہیں لوٹی۔ گھر ٹ نے تلاش کے بعد روتارا پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ پانچ دن بعد پولیس نے لڑکی اور نوجوان کو برآمد کرکے کٹیہار عدالت میں پیش کیا۔
عدالت میں بیان کے دوران لڑکی نے اپنے والدین کو پہچاننے سے انکار کرتے ہوئے نوجوان کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ نوجوان کے ساتھ رہنے لگی۔
اس واقعہ کے بعد لڑکی کے والد نے اس کا پتلہ بنا کر پورے محلے میں علامتی ارتھی نکالی، آخری رسومات ادا کیں اور گھر واپس آکر تقریب بھی منعقد کی۔ والد کا کہنا تھا کہ "میری بیٹی اب میرے لیے مر چکی ہے۔”



