پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں کمی پر مرکزی وزیر کا بیان

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اطمینان کا سانس لی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں
مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے بعد بھارت میں بھی عوام کو امید تھی کہ گزشتہ ماہ بڑھائی گئی پٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کی قیمتوں میں جلد کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موضوع پر سوشل میڈیا
پر بھی وسیع پیمانے پر بحث جاری ہے۔اسی دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے بارے میں مرکزی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس سریش گوپی نے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف بین الاقوامی
مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے سے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فوری طور پر کم نہیں کی جا سکتیں۔سریش گوپی نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ خام تیل کی دستیابی اور سپلائی کی مجموعی
صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ان کے مطابق خام تیل کی خریداری، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور ریفائننگ کے مراحل میں وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں فوری ردوبدل ممکن نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی
وزارتِ پیٹرولیم ملک میں خام تیل کی دستیابی اور سپلائی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر قیمتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین صرف
بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا، بلکہ غیر ملکی زرمبادلہ کی شرح، مختلف ٹیکسوں، نقل و حمل کے اخراجات اور دیگر معاشی عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔




