نقلی بابا کی انسانیت سوز حرکتیں، 15 سال تک خاتون کو قید رکھ کر جنسی استحصال، پیشاب پلانے کا انکشاف۔ مہاراشٹرا میں ماڈرن آشرم پر پولیس کا دھاوا

پونے: انسانی کمزوریوں اور مذہبی عقیدت کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے نقلی باباؤں کے کارنامے آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔ عقیدت کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے والے ایسے فرضی روحانی رہنما ایک بار پھر بے نقاب ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر کے
شہر پونے میں ایک خود ساختہ بابا کی ہولناک حرکتوں نے سب کو چونکا دیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے 15 برس تک ایک خاتون کو اپنی گرفت میں رکھ کر اس کا جنسی استحصال کیا اسے زبردستی پیشاب پلایا اور برہنہ ویڈیوز کے ذریعے بلیک
میل کرتا رہا۔ملزم رادھا موہن مشرا نامی شخص پونے کے کھراڈی علاقے میں ایک عالی شان بنگلے میں ’’ماڈرن گروکلم‘‘ کے نام سے آشرم چلا رہا تھا۔ وہ خود کو مافوق الفطرت طاقتوں کا مالک ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو یقین دلاتا تھا کہ وہ ان
کے دل و دماغ کی باتیں جان سکتا ہے۔اس کے جھانسے میں آ کر کئی والدین نے اپنے بچوں کو آشرم میں داخل کرایا۔ بچے دن میں اسکول اور کالج جاتے جبکہ رات آشرم میں گزارتے تھے۔ بابا وہاں موجود افراد سے ان کے ذاتی خیالات اور
نجی معلومات تحریری رپورٹس کی شکل میں حاصل کرتا اور بعد میں انہی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے ان پر نفسیاتی دباؤ ڈال کر انہیں اپنے قابو میں رکھتا تھا۔پولیس کے مطابق بابا کی نظر ایک ایسے خاندان کی خاتون پر پڑی جو
گزشتہ دو دہائیوں سے اس پر اعتماد کرتا تھا۔ اس اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے خاندان کو قائل کیا کہ خاتون آشرم میں قیام کرے۔آشرم پہنچنے کے بعد خاتون کو ایک کمرے میں محدود کر دیا گیا جہاں سی سی ٹی وی کیمروں کے
ذریعے ہر وقت اس پر نظر رکھی جاتی تھی۔ ’’عقیدت اور وفاداری کے امتحان‘‘ کے نام پر اس کا مسلسل جنسی استحصال کیا جاتا رہا۔خاتون نے کئی بار اپنے ارکان خاندان کو بابا کی حرکتوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کی مگر بابا پر اندھی
عقیدت رکھنے والے خاندان والوں نے اس کی باتوں پر یقین نہیں کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نہ صرف خاتون کو بجلی کے جھٹکے دیتا تھا بلکہ زبردستی اس سے اپنا پیشاب بھی پلواتا تھا۔دردناک زندگی سے نجات کے لیے خاتون نے شادی کی
خواہش ظاہر کی جس پر بابا نے ایک میٹرمونیل ویب سائٹ کے ذریعے کچھ سخت شرائط کے ساتھ اس کی شادی کروا دی۔بعد ازاں اس نے خاتون اور اس کے شوہر کی برہنہ ویڈیوز حاصل کر کے انہیں بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ
دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی بھی کروا دی گئی۔بالآخر تنگ آ کر خاتون نے اپنے کمرے میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے اور آشرم سے فرار ہو کر پولیس سے رجوع کیا۔16 جون کو موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر
پولیس نے مقدمہ درج کر کے ’’ماڈرن گروکلم‘‘ آشرم پر چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں الیکٹرانک شواہد برآمد ہوئے جن میں 19 ہارڈ ڈسکیں، 12 لیپ ٹاپ، 11 موبائل فون، 23 پین ڈرائیوز، متعدد ڈی وی ڈیز اور سی ڈیز شامل
ہیں۔پولیس نے 6.5 لاکھ روپے نقد رقم اور تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات بھی ضبط کیے۔ اگرچہ آشرم سے کوئی اسلحہ نہیں ملا تاہم 10 گولیاں برآمد ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔تحقیقات کے دوران ایک اور حیران کن
انکشاف اس وقت ہوا جب آشرم کے نیچے خفیہ طور پر تعمیر کی جانے والی زیرِ زمین سرنگ دریافت ہوئی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ کسی خطرے کی صورت میں فرار ہونے کے لیے یہ راستہ بنایا جا رہا تھا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات
شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم کے مہاراشٹر کے علاوہ شمالی بھارت کی کئی ریاستوں میں بھی بڑی تعداد میں پیروکار موجود ہیں۔ پولیس اب اس پہلو سے بھی تفتیش کر رہی ہے کہ اس نیٹ ورک کا شکار مزید کتنے افراد ہوئے ہیں۔



