جرائم و حادثات

محبت کا معاملہ دوست کے ہاتھوں دوست کا قتل۔ عادل آباد ضلع پولیس نے اندرون 24 گھنٹے ملزمین کو کیا گرفتار

نمائندہ خصوصی خضر یافعی

عادل آباد، 21/ جون (اردو لیکس)ضلع عادل آباد کے نیراڑی گونڈہ پولیس اسٹیشن حدود میں پیش آئے ایک سنسنی خیز قتل معاملہ کو پولیس نے محض 48 گھنٹوں میں حل کرتے ہوئے چھ ملزمین کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں دے دیا۔

 

پولیس نے اس قتل کی اصل وجہ ایک محبت کا معاملہ بتایا ہے۔ پولیس نے ملزمین کے قبضہ سے موبائل فون، موٹر سائیکلیں اور واردات سے متعلق دیگر شواہد بھی ضبط کرلئے ہیں۔اٹنور کے اے ایس پی رتھوک سائی کوٹے آئی پی ایس نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا

 

کہ نیراڈی گونڈہ منڈل کے پیڈا بگارم گاؤں سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ ایس سی نوجوان ناتری ستیش 17 جون کو لاپتہ ہوگیا تھا۔ اہل خانہ کی شکایت پر پہلے گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تاہم 19 جون کو کراتھ واڑہ تالاب سے اس کی لاش برآمد ہونے کے بعد کیس کو قتل میں تبدیل کر کے تفتیش شروع کی گئی۔

 

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم شیخ سمیر اپنے محبت کے تعلقات میں مقتول کو رکاوٹ سمجھتا تھا۔ اسی رنجش کے تحت اس نے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ستیش کو شراب پارٹی کے بہانے کراتھ واڑہ تالاب کے قریب بلایا۔ وہاں اسے زبردستی شراب پلانے کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا۔

 

پولیس کے مطابق قتل کے بعد ملزمین نے لاش کو تالاب میں پھینک دیا جبکہ مقتول کی موٹر سائیکل کو عادل آباد منتقل کردیا گیا۔ مزید یہ کہ مقتول کا موبائل فون ثبوت مٹانے کی غرض سے چلتی ٹرین سے پھینک دیا گیا تھا۔

 

اے ایس پی نے بتایا کہ تکنیکی شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور خصوصی پولیس ٹیموں کی مدد سے کیس کو انتہائی کم وقت میں حل کرلیا گیا۔ اس کارروائی میں مجموعی طور پر چھ ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضہ سے پانچ موبائل فون، واردات میں استعمال ہونے والی

 

دو موٹر سائیکلیں، مقتول کی موٹر سائیکل اور جائے واردات سے ملنے والی سات خالی بیئر بوتلیں ضبط کی گئیں۔پولیس نے بتایا کہ مقتول کا تعلق درج فہرست ذات (ایس سی) سے ہونے کے باوجود جان بوجھ کر جرم انجام دیا گیا

 

جس کے پیش نظر ملزمین کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے ساتھ ساتھ ایس سی/ایس ٹی مظالم انسداد قانون کی دفعہ 3(2)(v) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 

پولیس کی بروقت کارروائی اور سائنسی بنیادوں پر کی گئی تفتیش کے نتیجہ میں قتل کا معمہ 48 گھنٹوں کے اندر حل ہوگیا، جس پر اعلیٰ پولیس حکام نے تفتیشی ٹیم کی ستائش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button