نیشنل

تہلکہ کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال عصمت ریزی کیس میں قصوروار ، عدالت کا فیصلہ

نئی دہلی: معروف میڈیا ادارے تہلکہ کے سابق ایڈیٹر کو ریپ کیس میں بڑا قانونی جھٹکا لگا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے جمعرات کو 2013 میں اپنی جونیئر ساتھی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں انہیں قصوروار قرار دے دیا۔

 

اس کے ساتھ ہی عدالت نے 2021 میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنایا گیا برات کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔متاثرہ خاتون نے الزام لگایا تھا کہ 2013 میں گوا میں منعقدہ تھنک فیسٹ کے دوران ایک ہوٹل کی لفٹ میں ترون تیج پال نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔

 

شکایت کے بعد نومبر 2013 میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں انھیں ضمانت پر رہائی مل گئی۔ 2017 میں ماپوسا ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی اور 2021 میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا جس کے خلاف گوا حکومت نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔

 

ریاستی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلائل پیش کیے۔ فیصلے کے بعد انہوں نے کہا کہ ترون تیج پال کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کی عمر کے لحاظ سے وہ اس کے والد کے برابر تھے

 

مگر انہوں نے اس کی رضامندی نہ ہونے کے باوجود جرم کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "جب کوئی لڑکی ‘نہیں’ کہے تو اس کا مطلب صرف ‘نہیں’ ہوتا ہے” اور عدالت کو اس فیصلے کے ذریعے معاشرے کو مضبوط پیغام دینا چاہیے۔

 

دوسری جانب تحقیقاتی صحافی ترون تیج پال نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اس مقدمے میں متاثرہ فریق ہیں۔ انہوں نے کہا "میری عمر اب 62 سال ہے، میری اہلیہ بھی ہیں، میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

 

ہمیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے لہٰذا مجھ پر رحم کیا جائے۔ تمام حقائق عدالتی ریکارڈ پر موجود ہیں۔”عدالت اس مقدمے میں سزا کا اعلان آج دوپہر 2:30 بجے کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button