نکاح کے تین ماہ بعد دلہن کا قتل – موبائل فون اور گھریلو جھگڑے نے لی نو بیاہتا کی جان، شوہر گرفتار
لکھنو: اترپردیش کے آگرہ میں نکاح کے صرف تین ماہ بعد ایک نو بیاہتا خاتون کے قتل نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ بند مکان سے خاتون کی نعش برآمد ہونے کے بعد پولیس کا شبہ سب سے پہلے شوہر پر گیا، کیونکہ واردات کے بعد وہ گھر پر تالا لگا کر فرار ہوگیا تھا۔ پولیس نے چند ہی گھنٹوں میں ملزم شوہر فرحان کو گرفتار کر لیا۔
عظمیٰ، جو جھانسی کی رہنے والی تھیں، کے پہلے شوہر کا کینسر سے انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 20 اپریل کو آگرہ کے نگلہ پیما کے رہائشی فرحان سے دوسرا نکاح کیا تھا۔ دونوں کی ملاقات ایک میرج ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی تھی۔ فرحان اس سے پہلے بھی دو شادیاں کر چکا تھا، تاہم اس کی دونوں بیویاں اسے چھوڑ چکی تھیں۔ دونوں کے پہلے سے دو، دو بچے تھے، لیکن عظمیٰ اپنے بچوں کو ساتھ نہیں لائی تھیں اور وہ اپنے نانا کے گھر رہ رہے تھے۔
پولیس کے مطابق پوچھ تاچھ میں فرحان نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی عظمیٰ اسے اپنا موبائل فون تک چھونے نہیں دیتی تھی، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بچوں کی ذمہ داری اور گھریلو معاملات پر بھی مسلسل اختلافات رہتے تھے۔
پولیس کے مطابق جھانسی کی رہائشی عظمیٰ نے 20 اپریل کو آگرہ کے تاج گنج علاقے کے رہائشی فرحان سے دوسرا نکاح کیا تھا۔ منگل کی صبح ان کی خون میں لت پت لاش بند مکان سے برآمد ہوئی، جبکہ فرحان فرار تھا۔ مکان پر باہر سے تالا لگا ہونے کی وجہ سے پولیس کا شک شوہر پر گہرا ہوگیا۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقتولہ کے گھر والے آگرہ پہنچے اور فرحان کے خلاف قتل کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مختلف ٹیمیں تشکیل دیں اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔
تفتیش کے دوران فرحان نے بتایا کہ نکاح کے وقت یہ طے ہوا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بچوں کی ذمہ داری قبول کریں گے۔ اس کے مطابق عظمیٰ اپنے بچوں کو میکے چھوڑ آئی تھیں، لیکن جب وہ اپنے بچوں کو گھر لے آیا تو عظمیٰ ان کے لیے کھانا نہیں بناتی تھیں، جس پر آئے دن جھگڑا ہوتا تھا۔
ملزم نے دعویٰ کیا کہ واردات والے دن بھی کھانا نہ بنانے پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس کے مطابق جب وہ غصے میں گھر سے نکلنے لگا تو عظمیٰ نے اسے روکنے کی کوشش کی، جس سے وہ سیڑھیوں پر گر گیا۔ اس کے بعد غصے میں آکر اس نے پہلے پتھر سے عظمیٰ کے سر پر حملہ کیا اور پھر بلیڈ سے ان کا گلا کاٹ دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے اس بیان کی تصدیق فارنسک شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر ثبوتوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ ملزم کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا بلیڈ بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جسے فارنسک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق قتل کے بعد فرحان نے گھر پر باہر سے تالا لگا دیا تاکہ کسی کو فوری طور پر واقعے کا علم نہ ہو، پھر آگرہ کینٹ ریلوے اسٹیشن پہنچ کر پہلی ملنے والی ٹرین میں سوار ہو کر فرار ہوگیا۔ تکنیکی شواہد اور لوکیشن ٹریسنگ کی مدد سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔
تاج سکیورٹی کے اے سی پی یتیندر سنگھ نگر نے بتایا کہ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا واقعی موبائل فون تنازعہ کی وجہ تھا یا قتل کے پیچھے کوئی اور سبب موجود ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کے موبائل فون، کال ریکارڈ، فارنسک رپورٹ، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر الیکٹرانک شواہد کی بھی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ قتل کی اصل وجہ سامنے آسکے۔



