ممتا بنرجی کی شکست کو چیلنج، ہائی کورٹ نے چیف منسٹر سوویندو ادھیکاری کو نوٹس جاری کر دیا – ای وی ایم اور سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا حکم

کولکتہ : مغربی بنگال کی بھوانی پور اسمبلی نشست سے چیف منسٹر سوویندو ادھیکاری کی کامیابی کے خلاف سابق چیف منسٹر اور ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر انتخابی عرضی پر کولکتہ ہائی کورٹ نے منگل کو چیف منسٹر سوویندو ادھیکاری سے جواب طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ اپریل میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں سوویندو ادھیکاری نے 73,917 ووٹ حاصل کرتے ہوئے ممتا بنرجی کو 15,105 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی، جبکہ ممتا بنرجی کو 58,812 ووٹ ملے تھے۔
جسٹس گورانگ کانتھ نے کہا کہ ابتدائی جائزے میں عدالت اس بات سے مطمئن ہے کہ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر انتخابی عرضی عوامی نمائندگی ایکٹ (آر پی ایکٹ) کی دفعات کے مطابق ہے، لہٰذا اس مرحلے پر دفعہ 86(1) کے تحت عرضی خارج کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
عدالت نے چیف منسٹر سوویندو ادھیکاری کو چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کی آئندہ سماعت بارہ ہفتوں بعد مقرر کی۔
ہائی کورٹ نے بھوانی پور کے تمام پولنگ مراکز میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم)، وی وی پی اے ٹی مشینوں اور ووٹوں کی گنتی کے مرکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا بھی حکم دیا۔
سماعت سے قبل جسٹس گورانگ کانتھ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے بڑے بھائی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکمل انکشاف کے بعد ہی وہ اس مقدمے کی سماعت کریں گے تاکہ بعد میں کسی فریق کو اعتراض نہ ہو۔
ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کلیان بندوپادھیائے نے کہا کہ انہیں جسٹس کانتھ کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں اور انہیں عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔
دلائل کے دوران ممتا بنرجی کے وکیل نے الزام لگایا کہ ووٹوں کی گنتی میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں اور بھوانی پور کے ریٹرننگ افسر کی تقرری مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود کی گئی تھی، جنہیں اب وزیر اعلیٰ کے دفتر میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2021 کے نندی گرام انتخابات میں بھی یہی ریٹرننگ افسر تعینات تھے، جہاں ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے خلاف متعدد شکایات موجود ہیں۔
عدالتی حکم نامے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام غیر قانونی طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کر دیے گئے تھے۔



