لینڈ گرابنگ اور جبری وصولی کا الزام۔ حیدرآباد میں ایک شخص گرفتار

حیدرآباد: شہر کے ایک 61 سالہ تاجر کو پولیس نے زمینوں پر ناجائز قبضے اور جبری وصولی کے ایک مبینہ ریکیٹ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم اخبارات میں شائع ہونے والے جائیداد کے اشتہارات کو دیکھ کر سادہ لوح افراد کو نشانہ بنایا کرتا تھا۔
جعلی ملکیتی دستاویزات تیار کرتا اور زمین کے مالکین کو جھوٹے فوجداری مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دے کر رقم وصول کرتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم محمد عبدل قدوس جو بندلہ گوڑہ کا رہنے والاہے اسے 22 جون کو گرفتارکیا گیا۔یہ کاروائی چادرگھاٹ پولیس نے انجام دی۔
پولیس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب محمد نجم الدین شاکر جو نیو ملک پیٹ کے ایک تاجر ہیں، نے 2 مئی کو چادر گھاٹ پولیس میں شکایت درج کروائی۔شکایت کے مطابق ان کے خاندان کے پاس ایک آبائی جائیداد کی قانونی ملکیت موجود تھی
جو 1966 اور 1967 میں رجسٹرڈ فروختی دستاویزات کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور بعد میں ہبہ ناموں اور رجسٹرڈ وصیت کے ذریعے وراثت میں منتقل ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب خاندان نے 2025 میں جی ایچ ایم سی کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اس زمین پر تعمیراتی کام شروع کیا۔
تحقیقات کے مطابق عبد القدوس نے جعلی ہبہ ناموں اور جعلی اسٹامپ پیپرس کا استعمال کرتے ہوئے زمین کے ایک حصے پر ملکیت کا دعویٰ کیا اور مختلف قانونی کارروائیاں شروع کر کے اصل ملکیت کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق عبد القدوس اور اس کے ایک ساتھی نے شکایت کنندہ سے بار بار رابطہ کیا
اور مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔قدوس پر الزام ہے کہ انہوں نے رقم نہ دینے کی صورت میں جھوٹے فوجداری مقدمات اور حتیٰ کہ قتل کے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دیں۔پولیس کے مطابق ملزم نے ایک منظم طریقۂ واردات اختیار کر رکھا تھا۔ وہ مقامی اخبارات، خصوصاً جائیداد کے اشتہارات اور نئی تعمیر شدہ عمارتوں کی نشاندہی کرتا تھا
پھر ایک ہی جعلی دستاویز نمبر استعمال کرتے ہوئے جعلی ہبہ نامے تیار کر کے ملکیت کا دعویٰ کرتا تھا۔بعد ازاں وہ دیوانی مقدمات اور رِٹ پٹیشنز دائر کر کے اصل مالکین پر دباؤ ڈالتا تھا تاکہ وہ طویل قانونی کارروائی اور ہراسانی سے بچنے کے لیے رقم ادا کریں۔پولیس کو شبہ ہے کہ اس طریقے سے متعدد
جائیداد مالکان سے تقریباً 40 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔جب پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم بنگلورو فرار ہو گیا ہے تو چادر گھاٹ پولیس نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ ضروری قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو 22 جون کو اس کے بیٹے کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ملزم کو حاضر عدالت کیا گیا اور اسے عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق عبد القدوس کے خلاف پہلے بھی مقدمات درج ہیں۔پولیس نے جائیداد خریدنے یا فروخت کرنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لین دین سے قبل تمام ملکیتی دستاویزات کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس اس نوعیت کے جرائم
سے متعلق معلومات ہوں تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔



