ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان

نئی دہلی: ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی کو پارٹی کے باغی گروپ نے ایک ہی دن میں دو بڑے جھٹکے دیے ہیں۔ باغی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہیں پارٹی کی صدارت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے
کہ ممتا بنرجی کے مزید حامی اب ان کے گروپ میں شامل ہو گئے ہیں۔باغی گروپ کی قیادت کرنے والے رتبرتا بنرجی نے بتایا کہ ممتا بنرجی کے قریبی ساتھی اور کولکتہ کے سابق میئر فرہاد حکیم بھی ان کے گروپ میں شامل ہو گئے ہیں۔
پیر کے روز مغربی بنگال حکومت نے بجٹ پیش کیا جس کے بعد کولکتہ کے نیو ٹاؤن علاقے میں باغی ارکانِ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں تقریباً 500 ضلعی صدور، کونسلرز اور سینئر قائدی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران
رتبرتا بنرجی نے اعلان کیا کہ ممتا بنرجی کو پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 30 رکنی قومی ورکنگ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔باغی گروپ نے رکن اسمبلی ارُوپ رائے کو کمیٹی کا چیئرپرسن منتخب کرنے
کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل ترنمول کانگریس ان کا گروپ ہے اور وہ اپنے فیصلے سے الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کریں گے۔رتبرتا بنرجی نے کہا کہ اگر ممتا بنرجی پارٹی کی چیف ایڈوائزر (مرکزی مشیر) کے طور پر خدمات انجام دینا
چاہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان کو نمایاں رکھا گیا جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی تصاویر ہٹا دی گئیں۔باغی گروپ نے فرہاد حکیم، ارُوپ بسواس، رتھن گھوش اور صبینہ
یاسمین کو نائب صدور مقرر کیا جبکہ رتبرتا بنرجی، جاوید خان اور سندیپن ساہا کو جنرل سکریٹری نامزد کیا گیا۔




