ایس آئی آر کے معاملہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کانگریس ارکان اسمبلی کو سخت وارننگ

تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایس آئی آر (خصوصی نظرثانی) کے معاملے پر پارٹی کے ارکانِ اسمبلی کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ان کی کارکردگی میں بہتری آنی چاہئے، بصورت دیگر ان کی جگہ حلقہ میں دوسرے کو انچارج مقرر کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ پارٹی کے لئے کام نہیں کریں گے، ان کی ضرورت نہیں ہے، اور اس معاملے میں بڑے سے بڑے لیڈر کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔چہارشنبہ کو ایس آئی آر عمل پر منعقدہ ورچوئل اجلاس میں ریونت ریڈی، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ، اے آئی سی سی قائدین میناکشی نٹاراجن اور سچن ساونت سمیت دیگر قایدین نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ عادل آباد میں بی آر ایس نے چار اجلاس منعقد کئے جبکہ کانگریس صرف تین اجلاس منعقد کر سکی۔ اسی طرح کوتہ گوڑم میں بی جے پی نے آٹھ اجلاس منعقد کئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی معمولی موجودگی کے باوجود وہ سرگرم ہے، اور اگر ووٹوں کے اخراج کی کوشش کرنے والی جماعت 160 اجلاس منعقد کر سکتی ہے
تو اقتدار میں ہونے کے باوجود کانگریس کا پیچھے رہنا تشویشناک ہے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ قیادت اضلاع کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ رہی، تمام امور کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے انچارج وزراء کو بھی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت دی۔




