سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے جائیداد۔کی ملکیت، قانون کے ضوابط کی منظوری

کے این واصف
سعودی کابینہ نے منگل کو مملکت میں غیرملکیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت سے متعلق قانون کے ایگزیکٹیو ریگولیشنز کی منظوری دی ہے۔اجلاس میں مملکت کی ان جغرافیائی حدود کی بھی منظوری دی گئی جہاں غیرملکی جائیداد خرید سکیں گے۔
ان فیصلوں کی منظوری منگل کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں دی گئی ہے۔ یاد رہے سعودی کابینہ نے گزشتہ برس جولائی کے آغاز میں ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت غیرملکی انفرادی یا کاروباری ادارے کی حیثیت سے مخصوص جغرافیائی علاقوں میں جائیداد خرید سکتے ہیں۔
نئے قانون میں واضح کیا گیا تھا کہ بعض مقامات خاص کرمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں صرف مسلم غیرملکی جائیداد خرید سکیں گے۔اخبار الشرق کے مطابق گزشتہ جنوری میں، سعودی رئیل اسٹیٹ اتھارٹی نے غیرسعودیوں کو جائیداد کا مالک ہونے کی اجازت دینے والے نظام کے نافذ اور مملکت میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے والے قانونی نکات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
غیرملکیوں کے لیے جائیداد کی خریداری عقارات السعودیہ” نامی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی، پلیٹ فارم کے ذریعے ان غیرملکیوں کا اکاونٹ بھی بنایا جاسکتا ہے جو مملکت میں مقیم نہیں تاہم مملکت میں قانونی طور پر مقیم غیرملکی بھی اس سے مستفیض ہو سکتے ہی۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد غیرملکی کمپنیاں اور ادارے بھی قانونی طور پر جائیداد خرید سکیں گے۔
واضح رہے کہ جائیداد کی خریداری کے قانون کا بنیادی مقصد براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی ترقی اور پراپرٹی ڈویلپرز کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے اہم مواقع فراہم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں بڑا عرصہ قیام کے بعد بھی عام طور سے غیر ملکیون کو سعودی عرب کی قومیت نہیں دی جاتی۔ مگر اب کم از کم متمول غیر ملکی اب غیر منقولہ جائیداد خرید سکتے ہیں۔



