ملت اسلامیہ نے ممتاز بے باک عالم دین، محقق، مدبر، مفکر کو کھودیا مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے سانحہ ارتحال پر یونائٹیڈ مسلم فورم کا اظہار تعزیت

ملت اسلامیہ نے ممتاز بے باک عالم دین، محقق، مدبر، مفکر کو کھودیا
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے سانحہ ارتحال پر یونائٹیڈ مسلم فورم کا اظہار تعزیت
حیدرآباد یکم جولائی (پریس نوٹ) یونائٹیڈ مسلم فورم نے ممتاز و بے باک عالم دین، مفسر، محدث، محقق، مدبر و مفکر مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کے ان کے لئے دعائے منفرت کی ہے۔ فورم کے ذمہ داران مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم (صدر)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید شاه حسن ابراهیم حسینی قادری سجاد پاشاہ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، جناب ضیا الدین نیئر، جناب سید منیر الدین احمد مختار (جنرل سکریٹری)، مولانا سید شاہ ظہیر الدین علی صوفی قادری، مولانا سید شاہ فضل الله قادری الموسوی، مولانا محمد شفیق عالم خان جامعی، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی، مولانا مفتی محمد عظیم الدین انصاری، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری، مولانا سید تقی رضا عابدی، مولانا ابوطالب اخباری، مولانا میر فراست علی شطاری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی، ڈاکٹر مشتاق علی، جناب ایم اے ماجد، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاه، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، مولانا مفتی معراج الدین علی ابرار، مولانا عبدالغفار خان سلامی، جناب بادشاہ محی الدین، ڈاکٹر نظام الدین، جناب شفیع الدین ایڈوکیٹ، جناب ضیاء الدین آرکٹکٹ، مولانا سید وصی الله قادری نظام پاشاه، مولانا سید شیخن احمد قادری شطاری کامل پاشاہ، مولانا مکرم پاشاه قاری تخت نشین، مولانا سید قطب الدین حسینی صابری، جناب نعیم صوفی اور جناب خلیل الرحمٰن اور دیگر ذمہ داروں نے اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں مولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم کی علمی، ملی، دینی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملت اسلامیہ کے لئے ایک متفکر درد رکھتے تھے۔
انہوں نے اتحاد بین المسلمین اور دیگر ابنائے وطن کے ساتھ ہم آہنگی کا عملی ثبوت دیا۔ حق گوئی و بے باکی ان کا وصف رہا۔ ان کے اس وصف کی وجہ سے انہیں مشکلات بھی پیش آئیں۔ پروقار علمی گھرانے سے تعلق نے کبھی انہیں عوام الناس سے دور نہیں رکھا۔ جس شعبہ کی ذمہ داریاں سنبھالی اس میں کمال پیدا کیا۔ وہ علم و فضل، دعوت و اصلاح، درس و تدریس، خطابت، تصنیف و تحقیق، کے میدانوں میں زبردست عبور رکھتے تھے۔ برصغیر ہی نہیں عالم اسلام میں منفرد شناخت و پہچان رکھتے تھے۔
دینی و ملی بیداری، فکری رہنمائی، اصلاح نصاب تعلیم، امت کی علمی و فکری تعمیر، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے ضمن میں مرحوم خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ملک کے موجودہ حالات میں جہاں بالخصوص مسلمانوں سے امتیاز برتا جارہا ہے، ان کی شناخت پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں، ایسے میں مولانا سید سلمان حسینی ندوی جیسی شخصیت کا گزر جانا ملت کے لئے ایک سانحہ سے کم نہیں۔ مولانا سلمان ندوی نے امت کے بقائے باہم، خیر خواہی، آپسی ہم آہنگی، ملک و قوم کی سلامتی کے لئے قابل قدر کوششیں کیں۔
فورم کے ذمہ داران اللہ پاک کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرتے ہیں کہ مولانا کے انتقال سے جو علم، دانش، فکر حق کا خلا پیدا ہوا ہے، اللہ اس کو پر کرے۔ مولانا، مرحوم کے درجات کو بلند کرے۔ ان کے اہل خانہ اور شاگردوں کو ہمت دے کہ وہ سانحہ کو برداشت کرسکیں۔



