نیشنل

تمل ناڈو میں مکمل گاؤ کشی پر تنازعہ، ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

چنئی: تمل ناڈو میں گاؤ کشی پر مکمل پابندی کے معاملہ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اسپیشل لیو پٹیشن (SLP) دائر کی ہے، جس میں ریاست بھر میں گاؤ کشی پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔

 

ریاستی حکومت نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1958 کی دفعہ 4 کے تحت 10 سال سے زائد عمر کی ایسی گائے، جسے متعلقہ حکام کام یا افزائش نسل کے لیے غیر موزوں قرار دیں، اسے قانونی طور پر ذبح کرنے کی اجازت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ اس قانون کے منافی ہے اور عدالت نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قانون سازی کا کردار ادا کیا ہے، اس لیے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

 

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب بقرعید کے موقع پر عوامی مقامات پر گاؤ کشی پر پابندی کے مطالبہ کے ساتھ ہندو مکّل کچی کے رہنما کے سوریہ نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے 27 مئی 2026 کو فیصلہ سنایا کہ صرف بقرعید ہی نہیں بلکہ سال کے کسی بھی دن ریاست میں گائے اور بچھڑے کے ذبح پر پابندی رہے گی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 48 اور 1976 کے سرکاری حکم نامے کا حوالہ دیا تھا۔

 

اب ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ سے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا آئندہ فیصلہ خاصی اہمیت کا حامل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button